Generated by Rank Math SEO, this is an llms.txt file designed to help LLMs better understand and index this website. # Daily Khabardar ## Sitemaps [XML Sitemap](https://khabardar.com.pk/sitemap_index.xml): Includes all crawlable and indexable pages. ## Posts - [عثمان خان کاکڑ کی پانچویں برسی، کراچی میں تعزیتی ریفرنس](https://khabardar.com.pk/archives/5035): کراچی: عثمان خان کاکڑ کی پانچویں برسی پر تعزیتی ریفرنس، خوشحال خان کاکڑ اور رضا ربانی کا خطاب - [دالبندین: چہتر کے قریب کارگو بس عملے اور سامان سمیت مبینہ اغواء](https://khabardar.com.pk/archives/5031): دالبندین: چہتر کے قریب کارگو بس عملے اور سامان سمیت مبینہ طور پر اغواء - [وڈھ: ٹریفک حادثے میں 4 افراد جاں بحق، 3 شدید زخمی](https://khabardar.com.pk/archives/5025): وڈھ: ٹریفک حادثے میں 4 افراد جاں بحق، 3 شدید زخمی - [بی بی سی کا پاکستان سے بین الاقوامی میڈیا پر نئی رپورٹنگ پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ](https://khabardar.com.pk/archives/5022): بین الاقوامی میڈیا پر نئی پابندیاں، بی بی سی کا پاکستانی حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ - [کوئٹہ: کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے 2026 کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا](https://khabardar.com.pk/archives/5005) - [پشین: سرکاری ڈیری فارم کے لیے جانوروں کی خوراک اور ادویات کی خریداری کا ٹینڈر جاری](https://khabardar.com.pk/archives/4999) - [بلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ، پرامن اور فعال بنانا حکومت کی زمہ داری ہے، میر سرفراز بگٹی](https://khabardar.com.pk/archives/4996): کوئٹہ، 6 اگست ،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ میر لیاقت علی لہڑی کی قیادت میں ٹرانسپورٹرز اور آل پاکستان مزدا ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے ملاقات کی ملاقات میں صوبے میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش مسائل، قومی شاہراہوں پر امن و امان کی صورتحال، تجارتی سرگرمیوں اور مال برداری کے نظام کو مزید مؤثر بنانے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ بلوچستان حیات خان، اسپیشل سیکرٹری داخلہ عبدالسلام خان اچکزئی، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عمران زرکون اور ایڈیشنل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ محمد فریدون خان بھی موجود تھے وفد میں آل پاکستان مزدا ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین میر نواب مینگل سمیت ممتاز ٹرانسپورٹرز میر دولت خان لہڑی، انجمن تاجران کے نمائندے رحیم کاکڑ، نور احمد کاکڑ، حاجی یاسین مینگل، نور اللہ ترین، حاجی محمد ابراہیم بنچاری، آغا داد اللہ، حاجی خلیل، طاہر احمد مینگل اور آغا بھی شامل تھ ے وفد نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ٹرانسپورٹرز تاجران اور گڈز ایسوسی ایشن کو درپیش مسائل، شاہراہوں پر نقل و حمل کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق مختلف انتظامی امور سے آگاہ کیا اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ صوبے اور ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور حکومت اس شعبے کو درپیش مسائل کے حل کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مسائل مرحلہ وار حل کیے جائیں گے اور متعلقہ محکموں کو اس حوالے سے ضروری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قومی شاہراہوں پر امن و امان کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کو محفوظ ماحول کی فراہمی کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو بھرپور انداز میں کام کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ، پرامن اور فعال بنانا نہ صرف عوام بلکہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مسلسل مشاورت کے ذریعے ایسے اقدامات کرے گی جن سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے، کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے اور عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں وفد نے مسائل کے حل اور ٹرانسپورٹر برادری کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ - [ضلع قلات میں متعدد سرکاری ترقیاتی و تعمیراتی منصوبوں کے لیے ٹینڈر طلب](https://khabardar.com.pk/archives/4976) - [محکمہ لائیو اسٹاک پشین نے تعمیراتی ترقیاتی منصوبے کے لیے ٹینڈر طلب کر لیے](https://khabardar.com.pk/archives/4972) - [کوئٹہ میں کشمیر کالونی واٹر سپلائی و سولر سسٹم منصوبے کے لیے ٹینڈر طلب](https://khabardar.com.pk/archives/4967) - [محکمہ زراعت کیچ نے مالی سال 2026-27 کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ٹینڈر طلب کر لیے](https://khabardar.com.pk/archives/4963) - [آسماجتک کے والد کےقاتکوں کو گرفتار کیا جائے،بلوچستان بار](https://khabardar.com.pk/archives/4960): کویٹہ(خبردار نیوز) بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن آسماء جتک کے والد اور ان کے دیگر رشتہ داروں کے پے در پے ہونے والے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ صدر ھائی کورٹ بار ایسوسی ایشن میر عطاء اللہ لانگو سینئر نائب صدر جمیل بوستان نائب صدر کوئٹہ زون عصمت اللہ اچکزئی نائب صدر زوب زون موسئ جان کاکڑ نائب صدر قلات زون واجہ اکرم بلوچ جنرل سیکریٹری نجب الدین آغا جوائنٹ سیکریٹری سمیرا عابد فائنانس سیکریٹری آیاز خان کاکڑ لائبریری سیکریٹری سنان ہوت پریس سیکریٹری عبدالقادر کاکڑ نے حکومتِ بلوچستان اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان افسوسناک واقعات میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندان کو بلا تاخیر انصاف فراہم کیا جائے۔ اس وقت عوام میں خوف، بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، جس کا خاتمہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ آئینِ پاکستان کے مطابق ہر شہری کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے، لہٰذا حکومت اس ذمہ داری کو مؤثر انداز میں پورا کرے اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ایک بار پھر مطالبہ کرتی ہے کہ قاتلوں کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے، شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے تاکہ معاشرے میں امن و امان اور قانون کی بالادستی قائم ہو سکے۔ - [یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بلوچستان اسمبلی میں مشترکہ مذمتی قرارداد پیش، ایوان سے متفقہ منظور](https://khabardar.com.pk/archives/4957): کوئٹہ، 05 اگست ،وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بلوچستان صوبائی اسمبلی میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا قرارداد وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی، صوبائی وزراء میر محمد صادق عمرانی، میر ظہور احمد بلیدی، میر شعیب نوشیروانی، فیصل خان جمالی اور پارلیمانی سیکرٹری برکت علی رند کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی قرارداد میں 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35(A) کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنے کے اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ آرٹیکل 370 مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت، اپنا آئین، اپنا پرچم اور داخلی خودمختاری فراہم کرتا تھا جبکہ آرٹیکل 35(A) ریاست کے مستقل باشندوں کو سرکاری ملازمت، جائیداد اور سکونت کے خصوصی حقوق دیتا تھا۔ ان دفعات کے خاتمے کے ذریعے بھارت نے کشمیری عوام کی شناخت، آئینی حیثیت اور بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش کی ہے ایوان نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ ان اقدامات کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرتے ہوئے آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ غیر کشمیری افراد کو زمینوں کی خریداری اور سرکاری ملازمتوں تک رسائی دے کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشت گردی، محاصروں، ماورائے عدالت گرفتاریوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور میڈیا پر عائد پابندیوں کی بھی شدید مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ اقدامات کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کی جائز امنگوں کو دبانے کی ناکام کوشش ہیں بلوچستان اسمبلی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی، اخلاقی اور قانونی حمایت جاری رکھے گا اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا قرارداد میں 5 اگست کو ہر سال "یومِ استحصالِ کشمیر" کے طور پر منانے کی توثیق کرتے ہوئے اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ ملک بھر میں اس دن مختلف تقریبات کے ذریعے عالمی برادری کو بھارتی مظالم سے آگاہ کیا جائے گا اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے گا ایوان نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے تاکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر مؤثر اور فعال سفارتکاری کے ذریعے مزید بھرپور انداز میں اٹھایا جائے، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قانونی اور سفارتی معاونت کے لیے ایک جامع قومی حکمتِ عملی بھی تشکیل دی جائے قرارداد کے اختتام پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی عظیم قربانیوں، ثابت قدمی اور جدوجہدِ آزادی کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کشمیری عوام کو ظلم و جبر سے جلد نجات عطا فرمائے اور انہیں آزادی، امن اور انصاف کی نعمت سے سرفراز کرے۔ - [یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خصوصی پیغام](https://khabardar.com.pk/archives/4954): کوئٹہ ( خبردار نیوز 8 اہلِ بلوچستان کی جانب سے کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار، بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیرقانونی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں ، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی یوم استصال کشمیر کے موقع پر اپنے ویڈیوز پیغام میں کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے مطابق ہونا چاہیے ، خاص کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور کشمیری عوام کی شناخت مٹانے کی کوشش کر رہا ہے، عالمی برادری مؤثر کردار ادا کرے، میر سرفراز بگٹی کے مطابق پاکستان اور بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے، انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ حکومتِ بلوچستان وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی، - [حکومت کی رٹ ختم ،ملک چلانے والے اپنے علاقوں جانے سے قاصر ہیں ـمولانا فضل الرحمان](https://khabardar.com.pk/archives/4945): کوئٹہ (خبردار نیوز) — جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں حکومتی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ لوگ اپنے ہی علاقوں میں جانے سے قاصر ہیں اور ملک چلانے والی طاقتیں اس تمام صورتحال سے مکمل واقف ہیں۔ ​کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے ملک کی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل کبھی بھی طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آمریت دونوں نظام ناکام ہو چکے ہیں اور پاکستان میں سیاستدانوں کو آزادانہ کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، جس سے پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم پر جبری طور پر مسلط کی جانے والی حکومتیں ناقابلِ قبول ہیں۔ ​نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کیک کاٹ کر نہیں بنائے جاتے اور نہ ہی نئے صوبے بنانا اس وقت ملک کی بنیادی ضرورت ہے۔ نئے صوبوں کا قیام محض انتظامی معاملہ ہے اور اس کے لیے تمام فیصلے تمام متعلقہ قوموں کی شناخت کا احترام کرتے ہوئے مشاورت اور عوامی رائے سے ہونے چاہئیں۔ ​محمود خان اچکزئی سے متعلق بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ وہ صرف کسی ایک علاقے کے نہیں بلکہ بحیثیتِ مجموعی اپوزیشن لیڈر ہیں، اور انہیں مشورہ ہے کہ موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں اپوزیشن کا فوری اجلاس طلب کریں۔ وفاقی وزیر محسن نقوی کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر محسن نقوی خود نظام کو ناکام سمجھتے ہیں تو انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ ​آئینی ترامیم پر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ جے یو آئی نے 26 ویں ترمیم کے موقع پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کیے تھے تاکہ آئین کی روح برقرار رہے، تاہم آئندہ 28 ویں ترمیم میں کیا لایا جا رہا ہے اس سے ابھی کوئی واقف نہیں ہے۔ تمام قومی مسائل کا واحد حل آئین پاکستان کے مطابق ملک کو چلانے میں مضمر ہے۔ ​انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی بلوچستان میں صوبائی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی اور اپنی آزادانہ جدوجہد جاری رکھے گی۔ ڈاکٹر مالک بلوچ سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ بن رہے ہیں یا نہیں، اس بارے میں علم نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام کی توقعات آج بھی جے یو آئی سے وابستہ ہیں، اور سیاست میں "نئے چہروں" کی اصطلاح فلمی دنیا کی ہے، جبکہ حقیقی سیاست عوامی جدوجہد اور آئینی پاسداری کا نام ہے۔ - [بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کا ہدف حاصل،28ارب روپےبچت کا دعویٰ](https://khabardar.com.pk/archives/4942): کوئٹہ۔ 04 اگست، حکومت بلوچستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کا مقررہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیااورصوبے کی تاریخ میں پہلی بار بجٹ میں منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کی مکمل تکمیل یقینی بنائی گئیـ صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلیدی نے گزشتہ مالی سال کی کارکردگی رپورٹ وزیر اعلیٰ بلوچستان کو پیش کر دی وزیر اعلیٰ بلوچستان کی صوبائی وزیر ترقیات، چیف سیکرٹری، سیکرٹری ترقیات اور متعلقہ افسران کو شاباش، تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے سیکرٹریز کمیٹی کا اجلاس ہوا چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی گزشتہ اور رواں مالی سال کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گزشتہ مالی سال کے دوران غیر ترقیاتی اخراجات میں 28 ارب روپے کی بچت اور 2966 ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل یقینی بنائی گئی ، بریفنگ ین بتایا گیامہ رواں مالی سال 2280 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے، تمام منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس، مؤثر مانیٹرنگ اور مضبوط نگرانی کے نظام کا نتیجہ ہے۔ بلوچستان کے ترقیاتی وسائل کی ایک ایک پائی عوام کی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی پر خرچ کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نےکہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، رفتار اور معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، ہر منصوبے کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔ سی ایم آئی ٹی اور مانیٹرنگ اینڈ ایولوشن ڈائریکٹوریٹ کی موثر نگرانی سے بد عنوانی اور کرپشن کا خاتمہ ہوگا ، میر سرفراز بگٹی ۔ے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور ترقی کے ثمرات ہر ضلع اور ہر شہری تک پہنچائیں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق ترقیاتی فنڈز کے مؤثر اور شفاف استعمال کو یقینی بنا کر عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اوررواں مالی سال کے ترقیاتی اہداف بھی مقررہ مدت میں مکمل کر کے بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلوں کی جانب گامزن کریں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا اجلاس میں اظہار خیال - [ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے، آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہےـٹرمپ](https://khabardar.com.pk/archives/4931): واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے انتہائی سخت اور واضح بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ دہائیوں پرانے اس مسئلے کا حتمی اور پائیدار حل نکال رہی ہے جو خود ایرانی حکومت کا پیدا کردہ ہے۔ ​واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو اور اپنے بیانات میں صدر ٹرمپ نے ایرانی سفارت کاری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام خود ہم سے ملاقات کی درخواستیں کرتے ہیں لیکن جب بات چیت کا وقت آتا ہے تو آگے سے مکر جاتے ہیں۔ صدر نے انکشاف کیا کہ ایران یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ صرف عمان کے ذریعے ہی تمام معاملات اور مذاکرات طے کر رہا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ کسی معقول معاہدے تک پہنچنے یا شکست تسلیم کیے بغیر ایران کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ ​خطے کی صورتحال اور بحری راستوں کا ذکر کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ اس وقت آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور اطراف کے تزویراتی بحری راستوں پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ انہوں نے سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی رضامندی اور اجازت کے بغیر کوئی چیز یا رسد ایران تک نہیں پہنچ سکتی۔ ​صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کا اختتام ایران کے ایٹمی پروگرام پر واضح اور دوٹوک پیغام کے ساتھ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کسی بھی قیمت پر تہران کو ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں دے گا۔ امریکی صدر کے اس بیان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سفارتی تحرک میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ - [یونیورسٹی آف بلوچستان کی رینکنگ کو %42 سے بڑھاکر %82 تک پہنچانا ایک قابلِ تحسین کامیابی ہےـجعفر خان مندوخیل](https://khabardar.com.pk/archives/4927): کوئٹہ3 آگسٹ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کی رینکنگ اور اسکورنگ کو %42 فیصد سے بڑھا کر %82 فیصد تک پہنچانا ایک غیرمعمولی اور قابلِ تحسین کامیابی ہے۔ یہ نمایاں پیش رفت موثر قیادت، بہتر انتظامی اسٹریٹجی اور معیارِ تعلیم میں مسلسل بہتری کی عکاس ہے لہٰذا ضروری ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور بازئی اور ان کی پوری ٹیم اپنی بھرپور توجہ یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو مزید بلند کرنے، غیرضروری اخراجات میں کمی لانے اور مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے پر مرکوز رکھیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف بلوچستان کے 13ویں سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے 13ویں سینیٹ اجلاس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی، وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن صالح بلوچ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نمائندہ حسنین، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی، ایڈیشنل سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن جہانزیب مندوخیل، ایڈیشنل سیکرٹری جمیل احمد، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر غلام الرزاق اور رجسٹرار گل کاکڑ سمیت تمام سینیٹ ممبران موجود تھے۔ واضح رہے کہ گورنر بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ اور صوبائی وزیر تعلیم یونیورسٹی آف بلوچستان کے تقریباً پانچ گھنٹے طویل سینیٹ اجلاس میں آخر تک موجود رہے جو تعلیم دوستی اور اپنے صوبہ کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کیلئے ان کا عزم ہے۔ شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان کی آمدن میں اضافے کیلئے مختلف انڈسٹریز، فارماسیوٹیکل اداروں، زرعی تحقیقاتی مراکز اور دیگر متعلقہ شعبوں کے ساتھ موثر روابط استوار کریں تاکہ ریسرچ، جدت، روزگار اور مالی وسائل کے نئے مواقع پیدا کیے جاسکیں اور یونیورسٹی کو مالی طور پر زیادہ خودمختار بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف بلوچستان صوبہ کی پہلی یونیورسٹی ہے جس نے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے تحت اپنے انتظامی و دفتری نظام کو مکمل طور پر پیپرلیس بنا دیا ہے جو وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی اور ان کی پوری ٹیم کے ایک قابلِ تحسین اور ماحول دوست اقدام ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ اب نہ صرف گورنر سیکرٹریٹ بلوچستان کو بھی پیپرلیس بنائیں گے بلکہ پیپرلیس کے اس کامیاب ماڈل کو صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں تک بھی توسیع دینگے۔ اس نمایاں کامیابی میں کردار ادا کرنے والے یونیورسٹی آف بلوچستان کے ڈائریکٹر آئی ٹی محمد سلال خان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خصوصی تعریفی لیٹر سے بھی نوازا جائیگا۔ سینیٹ اجلاس کے دوران چیف جسٹس کامران خان ملاخیل نے شرکاء کی توجہ ایک اور اہم بات کی مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بی ایس پروگرام کا آغاز صوبہ کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک اہم اور جدید پیشرفت تھی لیکن دوسری جانب ایف اے اور بی اے کی ڈگریوں کے خاتمے سے ان ہزاروں غریب نوجوانوں کیلئے پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے کے دروازے بند ہو چکے ہیں جو مختلف معاشی و معاشرتی مجبوریوں کے باعث پرائیویٹ امیدوار کے طور پر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیویٹ تعلیم کے مواقع کو جاری رکھا جائے تاکہ ہر مرد عورت کو اپنی استطاعت اور معروضی حالات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن حاصل کرنے کا مساوی مواقع حاصل رہے۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے تیریویں سینیٹ اجلاس کے تمام شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ - [دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی مثال موجود نہیں، میر سرفراز بگٹی](https://khabardar.com.pk/archives/4922): کوئٹہ، 03 اگست وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات کو نہ تو مکمل طور پر مثالی قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی وہ تصویر درست ہے جو بعض حلقوں کی جانب سے بیرون از بلوچستان پیش کی جاتی ہے۔ حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے، جبکہ منفی تاثر اور یکطرفہ بیانیہ نہ صرف صوبے بلکہ ریاست پاکستان اور حکومتی اقدامات کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ قومی میڈیا میں بلوچستان کو اکثر صرف اس وقت یاد کیا جاتا ہے جب کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے، جبکہ صوبے میں ہونے والی مثبت پیش رفت، ترقیاتی منصوبے اور اصلاحات کو مناسب توجہ نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے متعدد پروگرامز جاری ہیں، سرکاری اسپتالوں کی خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے، صوبے کے تمام سرکاری اسکول فعال ہو چکے ہیں اور تقریباً 17 ہزار اساتذہ کی بھرتی مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے، لیکن افسوس کہ ان کامیابیوں کو قومی میڈیا میں وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو اس کے جغرافیائی حقائق کے تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض ڈویژنز اور اضلاع کا رقبہ اتنا وسیع تھا کہ مؤثر انتظامی نگرانی ممکن نہیں تھی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر نئے ڈویژنز اور اضلاع قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام تک ریاست کی رسائی بہتر ہو، انتظامی ڈھانچہ مضبوط بنایا جا سکے اور دور افتادہ علاقوں کے عوام کو سرکاری خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کی جا سکیں انہوں نے کہا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کا مقصد گورننس کو مؤثر بنانا، عوامی مسائل کے فوری حل کو یقینی بنانا اور پسماندہ علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام عوامی خدمت، انتظامی سہولت اور ریاستی اداروں کی مؤثر موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اور عالمی برادری پاکستان کی ریاست کے ساتھ کھڑی ہیں، نہ کہ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان دشمن دہشت گرد عناصر کو سہولت اور سرپرستی مل رہی ہے، حالانکہ عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کے مطابق افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے مختلف گروہوں کے پس پردہ سہولت کار، مالی معاونین اور تربیت فراہم کرنے والے ایک ہی انڈین نیٹ ورک "را" سے وابستہ ہیں اور یہی سب کی نانی ہے بلوچستان کے جغرافیائی حالات، طویل سرحدیں، دشوار گزار پہاڑی علاقے اور منتشر آبادی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز پوری ذمہ داری کے ساتھ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائیاں کر رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست اور دہشت گردوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ریاست بے گناہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر حال میں مقدم رکھتی ہے۔ دہشت گرد انسانی ڈھال استعمال کرتے ہیں، مگر سیکیورٹی فورسز شہری جانوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے انتہائی احتیاط سے کارروائیاں کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کو ریاست سے جوڑنے کی کوشش تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام، خصوصاً بلوچ اور پشتون نوجوان محب وطن ہیں اور انہیں دشمن کے منفی پروپیگنڈے سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ قومی سلامتی کے معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر ریاستی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دنیا میں کہیں بھی مسلح دہشت گرد گروہوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کی مثال موجود نہیں۔ البتہ سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور نوجوانوں کے ساتھ ہر سطح پر مکالمہ ضروری ہے تاکہ سیاسی، انتظامی اور سماجی مسائل کا حل اتفاق رائے سے نکالا جا سکے انہوں نے کہا کہ حکومت اقتصادی ترقی، بہتر طرز حکمرانی اور مؤثر سیکیورٹی حکمت عملی کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتی ہے۔ کرپشن کے خاتمے، میرٹ کے فروغ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتخابی اصلاحات جیسے معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو قومی اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقصد کسی علاقے پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ عوام سے پرامن ماحول چھیننا ہے، تاہم ریاست دہشت گردی کے اس مذموم ایجنڈے کو ہر صورت ناکام بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بہتر تعلیم، روزگار، شفاف طرز حکمرانی اور میرٹ پر مبنی مواقع فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ دہشت گردی کا مقابلہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ کرتے رہیں گے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، استحکام، ترقی اور مؤثر گورننس کے لیے حکومت اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی اور عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ - [بلوچستان کے 13 اضلاع کے 62 ہائی ریسک یونین کونسلز میں آج سے پولیومہم کا آغاز](https://khabardar.com.pk/archives/4913): کوئٹہ (خبردار نیوز ) ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) بلوچستان نے آج سے صوبے کے 13 اضلاع کی 62 ہائی رسک یونین کونسلز میں خصوصی انسداد پولیو مہم کا آغاز کردیا پے اس مہم کا مقصد ان علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو جیسے عمر بھر کی معذوری کا باعث بننے والے وائرس سے محفوظ بنانا ہے۔ ای او سی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے کہا کہ یہ خصوصی مہم ان علاقوں میں چلائی جا رہی ہے جہاں زیادہ نقل و حرکت کرنے والی آبادی موجود ہے اور پولیو وائرس کی گردش (وائرس سرکولیشن) کا خطرہ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کی جانب سے پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنے اور ہر بچے کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 2 لاکھ 9 ہزار 557 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ مہم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے 862 موبائل و فیلڈ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ 61 فکسڈ ویکسینیشن مراکز اور 72 ٹرانزٹ پوائنٹس بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں سفر کرنے والے خاندانوں کے بچوں کو بھی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انعام الحق نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والوں سے اپیل کی کہ وہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانچ سال سے کم عمر ہر بچہ، چاہے اسے پہلے بھی متعدد بار پولیو ویکسین پلائی جا چکی ہو، اس خصوصی مہم کے دوران بھی لازمی طور پر پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس اب بھی صوبے کے بعض علاقوں میں موجود ہے اور اس خطرناک بیماری سے مستقل تحفظ کا واحد مؤثر ذریعہ صرف بروقت اور بار بار پولیو ویکسینیشن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہر وہ بچہ جو پولیو کے قطرے پینے سے رہ جاتا ہے، وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ ای او سی کوآرڈینیٹر نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ویکسین سے انکار نہ کریں اور اپنے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنانے میں حکومت اور محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ انہوں نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کی انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مسلسل اور مؤثر پولیو مہمات کے ذریعے بلوچستان اور پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انعام الحق نے اس بات پر زور دیا کہ منہ کے ذریعے پلائی جانے والی پولیو ویکسین کی بار بار خوراکیں محفوظ، مؤثر اور بچوں میں وائرس کے خلاف مضبوط قوتِ مدافعت پیدا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ انہوں نے تمام مکاتب فکر اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس خصوصی مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کری - [نوشکی میں خودکش حملہہ اورسمیت 7شدت پسند ہلاک](https://khabardar.com.pk/archives/4906): کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان کے علاقے نوشکی میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں 7شدت پسند ہلاک ہوگئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بلوچستان کے علاقے نوشکی میں سیکورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کامیاب آپریشن کرتے ہوئے خودکش بمبار سمیت 7 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ​ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق بھارتی پراکسی 'فتنہ الہندوستان' سے تھا۔ کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا ٹھکانہ مکمل طور پر تباہ کر دیا، جبکہ وہاں موجود گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد کو موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ​آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ علاقے کو ہر قسم کے خطرات سے پاک کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن مسلسل جاری ہے۔ ترجمان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وژن 'عزمِ استحکام' کے تحت ملک میں غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کا بلا امتیاز اور مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ - [وزیر اعلیٰ بلوچستان کا دورہ زیارت،سیاسی جماعتوں کا شٹر ڈاؤن ہڑتال](https://khabardar.com.pk/archives/4894): زیارت (خبردار نیوز)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دورہ زیارت کے موقع پر آل پارٹیز زیارت کی اپیل پر شہر بھر میں 'یومِ سیاہ' منایا گیا اور مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ ​ہڑتال کے باعث زیارت شہر اور اطراف کے تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز، بازار اور کاروبار مکمل طور پر بند رہے، جبکہ شہر کی فضا سوگوار اور سنسان دکھائی دی۔ احتجاج کے دوران شہریوں اور سیاسی و سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد زیارت کی مرکزی شاہراہ (مین روڈ) کی دونوں اطراف سیاہ جھنڈے اٹھا کر کھڑی رہی اور حکومت کے خلاف خاموش احتجاج درج کرایا۔ ​مرکزی شاہراہ پر مظاہرین کی بڑی تعداد میں موجودگی اور ممکنہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے سیکیورٹی روٹ تبدیل کر دیا۔ انتظامیہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے موٹر کیڈ کو مرکزی روڈ کے بجائے متبادل بائی پاس راستے سے قائد اعظم ریزیڈینسی لے کر گئی۔ ​آل پارٹیز زیارت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی یہ کال کوئٹہ میں شہدائے پولیس کے لواحقین کے ساتھ کیے گئے حکومتی وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں حکومتی سطح پر شہدائے پولیس کے اہلخانہ کو مطالبات کی منظوری اور مسائل کے حل کی کامل یقین دہانی کرائی گئی تھی، جس پر لواحقین نے اپنا دھarna اور احتجاج ختم کیا تھا، لیکن طویل وقت گزرنے کے باوجود ان مطالبات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ آل پارٹیز زیارت کے مطابق جب تک شہداء کے لواحقین کے جائز مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج کا سلسلہ مختلف صورتوں میں جاری رہے گا۔ - [بلوچستان میں دہشت گردی ہندوستان اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈہ ہے ـ ڈی جی آئی ایس پی آر](https://khabardar.com.pk/archives/4890): ​راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان پاک فوج (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ بھارت اور افغانستان کا مشترکہ ایجنڈہ صرف اور صرف دہشت گردی پھیلانا ہے، جبکہ معرکہ حق میں دشمن کی تمام تر حکمت عملی ناکام ہونے کے بعد اب اس نے بلوچستان کا رخ کر لیا ہے۔ تاہم ریاست بلوچستان کے غریب اور عام عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور وہی اس خطے کے اصل اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ ​پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں مخصوص مفاد پرست عناصر ملوث ہیں جن کا مقصد صوبے میں بے امنی پھیلانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اب کسی گروہ یا مخصوص عناصر کے بجاے براہِ راست بلوچستان کے عوام سے بات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے بعض سردار یہ نہیں چاہتے کہ غریب کا بچہ تعلیم اور ترقی کے میدان میں آگے بڑھے، لیکن ہمیں آج بلوچستان کے بنیادی اور اصل مسائل کی جڑ تک پہنچنا ہے۔ ​ترجمان پاک فوج نے لاپتا افراد کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کیا جانے والا منفی پروپیگنڈا مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ تحقیق اور حقائق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ لاپتا افراد کے نام پر جن لوگوں کا واویلا مچایا جا رہا تھا، ان میں سے متعدد افراد خضدار، مستونگ اور دیگر علاقوں میں دہشت گردی کی سنگین کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ​ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ہر شہری پر یہ فرض عائد نہیں ہوتا کہ اس کی پہلی اور آخری شناخت صرف 'پاکستانی' ہو؟ انہوں نے کہا کہ "ریاست ہے تو سیاست ہے اور ریاست ہے تو جان ہے۔" ریاست کی بقا اور سلامتی سب سے مقدم ہے اور دشمن کو بلوچستان میں اپنے شوم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ - [اے ٹی ایف ، سی ٹی ڈی اور ایس او ڈبلیو کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ۔](https://khabardar.com.pk/archives/4886): کوئٹہ (خبردار نیوز) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ ملک کو تقسیم کرنے کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، اور پاکستان یا بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش کو پوری قوت سے ناکام بنایا جائے گا۔ ​یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں اینٹی ٹیررسٹ فورس ٹریننگ اسکول میں 20 ویں کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان اور کمانڈنٹ اے ٹی ایف اسد خان نے بھی خطاب کیا، جبکہ پاس آؤٹ ہونے والے جوانوں نے اپنی پیشہ ورانہ اور جنگی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔ ​دہشت گردی کے خلاف سخت ریاستی عزم وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے پیچھے ایک منظم سازش ہے، جس کے تحت بدامنی پھیلا کر اس کا الزام ریاست پر ڈالنے کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندوق کے زور پر نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کرنے والوں کے سامنے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کبھی سرنڈر نہیں کریں گے اور ریاست اس جنگ میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔ سرفراز بگٹی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے کو سیاست کی نذر نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو سیاست کے بجائے قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ بلوچ نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایک لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا گیا ہے، تاہم جو لوگ ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ریاست ان کی بحالی، تعلیم اور روزگار کے لیے مکمل معاونت فراہم کرے گی۔ وزیر اعلیٰ نے اے ٹی ایف میں شامل ہونے والی 3 خواتین کانسٹیبلز کی شمولیت کو دیگر خواتین کے لیے مشعلِ راہ اور باعثِ فخر قرار دیا۔ - [موسیٰ خیل میں تعلیمی و صحت کے اداروں کی مرمت اور سولرائزیشن کے لیے 1.59 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاری](https://khabardar.com.pk/archives/4881) - [موسیٰ خیل میں 5.97 کروڑ روپے کی سڑک تعمیراتی اسکیم کا ٹینڈر جاری](https://khabardar.com.pk/archives/4877) - [صحبت پور میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی ٹف ٹائل اور سیوریج اسکیم کے لیے ٹینڈر طلب](https://khabardar.com.pk/archives/4873) - [ضلع اُستا محمد میں سڑک کی بحالی کے منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری](https://khabardar.com.pk/archives/4867) - [بی آئی این یو کیو کوئٹہ نے ادویات کی خریداری کے لیے ٹینڈر طلب کر لیے](https://khabardar.com.pk/archives/4863) - [ضلع قلعہ سیف اللہ میں کروڑوں روپے کے 8 ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز طلب](https://khabardar.com.pk/archives/4859) - [سورینج میں کوئلہ کان میں گیس دھماکہ: 34 کان کن جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری، وزیراعلیٰ بلوچستان کا نوٹس](https://khabardar.com.pk/archives/4834): کوئٹہ (خبردار نیوز)کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلہ کان میں زہریلی گیس کا بھیانک دھماکہ، حادثے کے نتیجے میں اب تک 34 کان کنوں کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ دیگر پھنسے ہوئے محنت کشوں کو نکالنے کے لیے پی ڈی ایم اے اور ریسکیو ٹیموں کا مشترکہ آپریشن بدستور جاری ہے۔ ​پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق دھماکہ کان میں زہریلی گیس بھر جانے کے باعث ہوا جس سے اندر کام کرنے والے کان کن محصور ہو گئے۔ ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری اور امدادی سامان کے ساتھ موقع پر موجود ہیں اور کان کے اندر پھنسے افراد تک پہنچنے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ​واقعے کی سنجیدگی کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے محکمہ مائنز اینڈ منرلز سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ حادثے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے تا کہ حادثے کی اصل وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے اور غفلت کے ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ ​انہوں نے مزید کہا کہ "اگر انکوائری میں کسی بھی سطح پر لاپرواہی یا ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔" وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے بھر کی تمام کوئلہ کانوں میں کان کنوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی ضوابط (Safety Protocols) پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔ - [ملکی نظام کی بہتری کے لیے پی ٹی آئی کو بھی ساتھ آنا چاہیے: محسن نقوی](https://khabardar.com.pk/archives/4828): اسلام آباد (اسپیشل رپورٹر): وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل کے امریکہ کے ساتھ تعلقات چاہے جتنے بھی مضبوط ہو جائیں، اس سے قبل انہوں نے جناح اڈئیوٹوریم پاک چائنا اکنامک سمٹ سے خطاب کیا اور کہا کہ جب تک ہمارا اپنا داخلی نظام درست نہیں ہوگا، اس کے مکمل فوائد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیلڈ مارشل متعدد مواقع پر اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ وہ ملک میں جمہوری نظام کو ہرگز ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے۔ ​وفاقی وزیر داخلہ نے ملکی سیاسی صورتحال اور اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی نظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام سیاسی دھڑوں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ان کی ذاتی رائے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بھی اس نظام کی بہتری اور استحکام کے لیے آگے آنا چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت ہر صورت مکمل کرے گی، جبکہ وہ خود صدارتی نظام کی نہ تو حمایت کر رہے ہیں اور نہ ہی اس پر کوئی گفتگو کر رہے ہیں۔ ​ایک سوال کے جواب میں محسن نقوی نے ان افواہوں کی تردید کی کہ وہ وزارتِ خارجہ کا قلمدان سنبھال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں وفاقی وزیر داخلہ ہی رہوں گا، وزارتِ خارجہ میں نہیں جا رہا۔" آزاد کشمیر کے امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ وہاں کے معاملات آزاد کشمیر حکومت خود دیکھ رہی ہے اور اس میں ان کا کوئی انتظامی کردار نہیں ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔ - [سورینج: کوئلہ کان میں دھماکہ، 22 مزدور پھنس گئے، پی ڈی ایم اے](https://khabardar.com.pk/archives/4826): کوئٹہ (اسپیشل رپورٹر): کوئٹہ کے قریبی علاقے سورینج میں واقع ایک نجی کوئلہ کان میں اچانک دھماکہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں متعدد مزدور کان کے اندر پھنس گئے۔ ​مزدور رہنما پیر محمد کاکڑ کے مطابق حادثے کے وقت کان کی گہرائی میں تقریباً 25 مزدور کام کر رہے تھے۔ دھماکے کے فوری بعد مقامی سطح پر امدادی کارروائی شروع کرتے ہوئے 3 کانکنوں کو محفوظ طریقے سے باہر نکال لیا گیا ہے، تاہم ابھی بھی 22 کے قریب مزدور اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی ہے کہ پھنسے ہوئے تمام مزدوروں کی قیمتی جانیں بچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل فوری طور پر بروئے کار لائے جائیں۔ ​دوسری جانب حادثے کی اطلاع ملتے ہی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) متحرک ہو گئی ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان کی خصوصی ہدایت پر امدادی ٹیموں کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جن کے ہمراہ 4 ایمبولینسز اور ضروری ریسکیو سامان بھی موجود ہے تاکہ ریسکیو آپریشن کو بلا تاخیر مکمل کیا جا سکے۔ - [ہونہار طالب علم رفیع اللہ کی ہمت نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا دل جیت لیا،](https://khabardar.com.pk/archives/4823): کوئٹہ۔ 30 جولائی (خبردار نیوز ) بلوچستان کے ہونہار طالب علم رفیع اللہ کی ہمت نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا دل جیت لیا، چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں خصوصی ملاقات کے دوران دونوں ہاتھوں سے معذور طالب علم رفیع اللہ نے ڈاکٹر بننے کا خواب بیان کردیا،جس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرادی اورعزم، حوصلہ کی خوبصورت داستان، رفیع اللہ کی جدوجہد کو بھرپور سہارتے ہوئے کہا کہ آپ کا خواب اب حکومت بلوچستان کا عزم ہے، تعلیم کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی، میر سرفراز بگٹی نےرفیع اللہ کی ہمت اور حوصلہ پوری قوم کے نوجوانوں کے لیے مثال ہے، اور کہا کہ جہاں بھی علاج ممکن ہوا حکومت آپ کا علاج کرائے گی، تاہم مایوس ہونے کی ضرورت نہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ آپ نے ثابت کیا کہ جسمانی معذوری کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، صلاحیت اور عزم رکھنے والے ہر نوجوان کی سرپرستی حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ رفیع اللہ جیسے باہمت نوجوان بلوچستان کا روشن مستقبل ہیں، ان کی کامیابی ہم سب کی کامیابی ہوگی، - [بلوچستان ہائیکورٹ کا امداد چوک ایف سی چیک پوسٹ پر اظہار برہمی](https://khabardar.com.pk/archives/4821): کویٹہ (خبردار نیوز )بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں، ٹریفک مینجمنٹ اور شہری سہولیات سے متعلق متعدد اہم احکامات جاری کر دیے۔ چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دائر ائینی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے ریلوے اسٹیشن چوک پر موجودہ ٹریفک ماڈل برقرار رکھنے اور موجودہ یوٹرن کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔ عدالت نے امداد چوک یا ریلوے اسٹیشن چوک کے قریب نیا یوٹرن بنانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے موجودہ نظام برقرار رکھنے کا حکم دیا۔ اورزرغون روڈ پر تمام غیر قانونی تجاوزات، کیبنز، عارضی اسٹالز اور غیر قانونی پارکنگ فوری ختم کرنے کا حکم دیا عدالت نے ڈی آئی جی، ایس ایس پی ٹریفک، ڈپٹی کمشنر اور ایم سی کیو کو تجاوزات کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے ڈرینیج چیمبرز میں ملبہ اور آلائشیں پھینکنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، بلوچستان ہائی کورٹ کا حکم دیا اور ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایم سی کیو کو نکاسی آب کے نظام کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت کی ـ عدالت نے سیف سٹی منصوبے کے تحت نئی تعمیر شدہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی بلا اجازت کھدائی پر عدالت کی سخت برہمی کا اظہار کیا اورسیف سٹی حکام کو نئی سڑکیں کھودنے سے قبل متعلقہ حکام سے منظوری لینے کا حکم دیا عدالت نے سمنگلی روڈ اپ گریڈیشن کے لیے زمین کے حصول کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کوئلہ پھاٹک ریلوے کراسنگ کشادہ کرنے کے منصوبے پر فوری سول ورک شروع کرنے کا عدالتی حکم کرتے ہوئے کنٹونمنٹ بورڈ کوئٹہ کے 876.523 ملین روپے واجبات کی ادائیگی کے لیے حکومت بلوچستان کو اقدامات کی سفارش۔ عدالت نے امداد چوک ایف سی چیک پوسٹ پر عدالت کی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس سے ٹریفک میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئےمتعلقہ حکام کے ساتھ فوری اٹھانے کی ہدایت کی عدالت نے سریاب سروس روڈ کی تعمیر غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تصویری اور ویڈیو شواہد سمیت جامع رپورٹ طلب کر لی۔ اور وورہیڈ پلوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف نگرانی سخت کرنے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ تھانوں کو متحرک کرنے کی ہدایت۔ جبکہ ٹریفک پولیس کو نفری کی کمی پوری کرنے کے لیے آئی جی اور ڈی آئی جی کو اہلکار فوری واپس کرنے کا حکم دیا عدالت نے قرار دیا کہ خصوصی کمیٹی اپنی ذمہ داریاں مکمل کر چکی، کمیٹی تحلیل کر دی گئی۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو عدالتی احکامات پر فوری اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی۔ - [کوئٹہ : تربت سے ملنے والی لاشیں چھ مزدوروں کی ہیں ، بابر یوسفزئی](https://khabardar.com.pk/archives/4818): کوئٹہ : تربت سے ملنے والی لاشیں چھ مزدوروں کی ہیں ، بابر یوسفزئی معاون برائے میڈیا محکمہ داخلہ کے مطابق شہید کیئے جانے والے مزدوروں میں سے چار کا تعلق پنجاب اور دو کا تعلق خیر پشتونخوا سے ہے ، ان7مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد نے دو روز قبل ضلع کیچ کے علاقے کلاتک سے اغوا کیا تھا ، جن میں سے ایک مزدور کو اغوا کے فورا بعد فائرنگ کرکے شہید کیا گیا تھا ، پولیسکے م 6مزدوروں کو نامعلوم مسلح افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے ، بعد تمام 6مغوی مزدوروں کو شہید کردیا گیا اور آج ان کی لاشیں ناصرآباد کے علاقے سے ملی ہے ، جس کے بعد پولیس نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ٹیچنگ ہسپتال تربت منتقل کردیا گیا جہاں سے ضروری قانونی کارروائی کے بعد انکی میتیں آبائی علاقوں کو روانہ کر دیا جائے گا ـ - [حکومت کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، عوام میں شدید غصے کی لہر](https://khabardar.com.pk/archives/4814): اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حکومتِ پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پہلے سے مہنگائی کے مارے عوام میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ​حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 1 روپیہ 63 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپیہ 55 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق فوراً نافذ العمل ہو چکا ہے۔ ​قیمتوں میں اس نئے اضافے پر مختلف مکاتبِ فکر اور بالخصوص ڈرائیورز و روزمرہ سفر کرنے والے شہریوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اور وقفے وقفے سے ہونے والے اضافے کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو جاتا ہے بلکہ منڈیوں میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر بنیادی اشیائے خوردونوش کے نرخ بھی بے قابو ہو جاتے ہیں۔ ​عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور مہنگائی کو لگام دی جا سکے۔ - [وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ڈی ایس پی مرید بگٹی کے شہادت پر اظہار افسوس](https://khabardar.com.pk/archives/4810): وئٹہ 28 جولائی:_وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ رکھنی میں دہشتگردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا سرچ آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے، دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے کی جا رہی ہیں اور ریاست دشمن عناصر کو کسی صورت اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہے ہیں، امن دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو فرار ہونے یا عوام کے امن کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی میر سرفراز بگٹی نے رکھنی میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ڈی ایس پی مرید بگٹی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کے لیے مشعل راہ ہیں۔ فرض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر اہلکاروں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں، ان قربانیوں سے دہشتگردی کے خلاف ہمارا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا اور امن دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا وزیر اعلیٰ بلوچستان نے شہید ڈی ایس پی مرید بگٹی کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ - [حکومت بلوچستان کا دہشت گردی کے متاثرین کے لیے معاوضہ پیکیج میں تاریخی اضافہ](https://khabardar.com.pk/archives/4805): کوئٹہ، 28 جولائی ،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر حکومت بلوچستان نے دہشت گردی کے واقعات سے متاثرہ سویلین افراد کی مالی معاونت اور بحالی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے "بلوچستان سویلین وکٹمز آف ٹیررازم (ریلیف اینڈ ری ہیبلیٹیشن) ایکٹ، 2014" (بشمول ترامیم 2025) کے تحت معاوضے کی مختلف مدات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نظرثانی شدہ معاوضہ نرخ 16 اپریل 2026 سے نافذ العمل ہوں گے، ج س کا مقصد دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کو بہتر مالی ریلیف اور فوری بحالی کی سہولیات فراہم کرنا ہے نوٹیفکیشن کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے معاوضہ 15 لاکھ روپے سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ شدید زخمی افراد، جن کے اعضاء متاثر ہوئے ہوں یا جو میڈیکل لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) کے مطابق معذوری کا شکار ہوئے ہوں، کے لیے معاوضہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے اسی طرح معمولی زخمی افراد، جو نقصان کے باعث دو ہفتے سے زائد عرصہ تک کام کرنے سے قاصر رہیں، کے لیے معاوضہ 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے اعلامیے کے مطابق دہشت گردی کے نتیجے میں رہائشی مکانات کو پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کے لیے بھی معاوضے میں اضافہ کیا گیا ہے۔ مکان کی مکمل تباہی کی صورت میں معاوضہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے جبکہ جزوی نقصان کی صورت میں 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے کاروباری مراکز، دکانوں، کیوسکس اور تجارتی اداروں کو پہنچنے والے نقصان پر بھی نظرثانی شدہ نرخ لاگو ہوں گے۔ مکمل تباہی کی صورت میں معاوضہ 5 لاکھ روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ جزوی نقصان پر 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے حکومت بلوچستان نے مال مویشی کے نقصانات کے ازالے کے لیے بھی معاوضے میں اضافہ کیا ہے۔ بھینس، گائے، بیل یا گھوڑے کے ضیاع پر فی جانور معاوضہ 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 70 ہزار روپے جبکہ بھیڑ، بکری یا گدھے کے نقصان پر معاوضہ 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کر دیا گیا ہے نقل و حمل کے دوران لدا ہوا کارگو مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہونے کی صورت میں بھی معاوضے کی شرح مقرر کی گئی ہے۔ خراب ہونے والی یا دیگر اشیاء کے مکمل نقصان پر کارگو بکنگ سلپ میں درج مالیت کا 50 فیصد جبکہ جزوی نقصان پر 15 فیصد معاوضہ تصدیق شدہ دستاویزات کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا اسی طرح ہیوی مشینری، ایچ ٹی وی اور ایل ٹی وی گاڑیوں کے نقصانات کے لیے ماڈل، سال اور انجن کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی معاوضے مقرر کیے گئے ہیں محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں تمام متعلقہ اداروں کو معاوضے کے معاملات میں شفافیت اور بروقت کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ضلعی معاوضہ کمیٹیوں (DCCs) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ محکمہ داخلہ کو کیسز بھجوانے سے قبل مکمل تصدیق اور جانچ پڑتال یقینی بنائیں محکمہ زراعت انجینئرنگ اور کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کو ہدایت کی گئی ہے کہ نقصانات کا تخمینہ زمینی حقائق اور اشیاء کی اصل جسمانی حالت کی بنیاد پر غیر جانبدارانہ انداز میں لگایا جائے احکامات کے مطابق تمام معاوضہ کیسز واقعے کی تاریخ سے دو ہفتوں کے اندر مکمل کرکے محکمہ داخلہ کو ارسال کیے جائیں گے تاکہ متاثرین کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسی گاڑیاں جو درست بیمہ (Insurance) کے تحت آتی ہیں، حکومت بلوچستان سے اضافی معاوضے کی اہل نہیں ہوں گی۔ - [مستونگ سے ہزارہ برادری کے دو کورئیر ڈرائیور اغوا، اہلِ خانہ کی فوری بازیابی کی اپیل](https://khabardar.com.pk/archives/4793): مستونگ : گزشتہ جمعہ مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ سے کورئیر سروس کے دو ڈرائیور گاڑی سمیت اغوا \ ڈی ایس پی مستونگ - [فیس بک صارفین کیلئے خوشخبری، میٹا کا مفت بلیو ٹک پروگرام متعارف](https://khabardar.com.pk/archives/4771): فیس بک صارفین کے لیے بڑی خوشخبری، میٹا نے مفت ویری فکیشن بیج متعارف کرا دیا - [لورا لائی: میت لے جانے والی ایدھی ایمبولینس پر فائرنگ، دو افراد زخمی](https://khabardar.com.pk/archives/4766): لورا لائی: درگ کے مقام پر ایدھی ایمبولینس پر فائرنگ، دو افراد زخمی - [طلبہ اتحادنے وزیر تعلیم کو استعفی دینے پر مجبور کر دیا ـابیجھیت دیپکے](https://khabardar.com.pk/archives/4761): ممبئی ( مانیٹرنگ)نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی - شرد پوار دھڑے) کے رہنما ابھیجیت دیپکے نے ریاست کے وزیر تعلیم کے استعفے کو جمہوری اصولوں، عوامی یکجہتی اور طلبہ کی تاریخی جدوجہد کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ ​اپنے ایک اہم بیان میں انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کا عہدے سے الگ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ جمہوریت میں عوام اور بالخصوص نوجوانوں کی متحد آواز کے سامنے کوئی اقتدار قائم نہیں رہ سکتا۔ ​طلبہ کے اتحاد کی جیت: ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ یہ استعفیٰ صوبے بھر کے ان تمام طلبہ اور نوجوانوں کے غیر متزلزل اتحاد کا نتیجہ ہے جو تعلیمی مسائل، شفاف امتحانات اور اپنے آئینی حقوق کے لیے سڑکوں پر احتجاج کر رہے تھے۔ ​ان کا کہنا تھا کہ جب حکمران عوام کے مطالبات اور تعلیمی نظام کی زبوں حالی سے آنکھیں چرانے لگتے ہیں تو پرامن جمہوری جدوجہد ہی آئینی راستوں کو بحال کرتی ہے۔ ​ انہوں نے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں اور بے حسی نے تعلیمی مستقبل کو داؤ پر لگا دیا تھا، لیکن طلبہ کی منظم تحرک نے بالآخر حکومت کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ ​ابھیجیت دیپکے نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ یہ استعفیٰ جدوجہد کا اختتام نہیں بلکہ شروعات ہے۔ تعلیمی شعبے میں درپیش دیگر تمام مسائل، شفاف بھرتیوں اور طلبہ کے تمام جائز مطالبات کی منظوری تک جمہوری انداز میں آواز اٹھانے کا یہ سلسلہ پوری طاقت کے ساتھ جاری رہے گا۔ - [انسداد دہشت گردی فورس اور پولیس کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا، محسن نقوی اور سرفراز بگٹی](https://khabardar.com.pk/archives/4758): ​کوئٹہ (خبردار نیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوئٹہ کا ایک اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی اور صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔ ​اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر داخلہ کو بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جاری سیکورٹی اقدامات اور آئندہ کی جامع حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں انسداد دہشت گردی فورس (CTD) اور بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید بہتر بنایا جائے گا۔ ​وزارت داخلہ نے بلوچستان پولیس کو مضبوط بنانے اور سیکورٹی فیصلوں پر پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے درکار تمام وسائل کی فراہمی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ​اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے درج ذیل اہم نکات پر زور دیاکہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون اور وسائل کی فراہمی جاری رکھے گی۔ ​اوربحالیِ امن کے لیے تیار کردہ ماسٹر پلان پر فوری اور مؤثر عمل درآمد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ​انہوں نے کہا کہ امن و امان کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں بلوچستان پولیس کے سابق سربراہان کے تجربات اور مشاورت سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔ ​اس کے علاؤہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر انٹیلی جنس اور مربوط حکمت عملی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ ​وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن اور خوشحالی کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہامہریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی اور دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی جائے گی۔ ہم ہر محاذ پر ایک قدم آگے رہیں گے اور کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ ​انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، معیاری تعلیم، ہنر (Skill) اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ​ میرٹ کی شفاف بالادستی قائم کر کے نوجوانوں کا اعتماد بحال کیا جا رہا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع دیے جا رہے ہیں۔ ​امن، ترقی اور خوشحالی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، حکومت دونوں محاذوں پر بیک وقت پیش رفت یقینی بنا رہی ہے۔ ​اجلاس کے اختتام پر وفاق اور صوبائی حکومت نے عزم کا اظہار کیا کہ وفاق کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا۔ - [پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، ؛ پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا](https://khabardar.com.pk/archives/4748): ​اسلام آباد (خاص رپورٹ)حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری طور پر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ​وزارتِ ماليات کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 66 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ ​دوسری جانب ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 80 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ​نوٹیفکیشن میں وضاحت کی گئی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی ان نئی قیمتوں کا باضابطہ اطلاق 25 جولائی سے ہو گا۔ - [گرین وپنک بس منصوبے کو فوری وسعت دی جائے، پشتونخوامیپ](https://khabardar.com.pk/archives/4745): کوئٹہ (پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کی لاکھوں آبادی کے لیے گرین بس منصوبے کو فوری وسعت دی جائے، لاکھوں شہریوں کو معیاری سفری سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ گرین بس منصوبے کو عوام کے لیے ایک مثبت اور مفید اقدامہے، تاہم تقریباً 40 لاکھ آبادی کے شہر میں چند گرین بسوں پر مشتمل سروس کسی بھی صورت عوامی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ روزانہ ہزاروں شہری، طلبہ، خواتین، بزرگ، سرکاری و نجی ملازمین اور مزدور اس سروس سے مستفید ہونا چاہتے ہیں، مگر محدود تعداد کے باعث شدید رش، طویل انتظار اور سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت بلوچستان، محکمہ ٹرانسپورٹ اور متعلقہ ادارے شہری آبادی میں مسلسل اضافے اور بڑھتی ہوئی سفری ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گرین بس منصوبے کو فورا شہر کے ان گنجان آباد علاقوں میں نئی بس سروس کا فوری آغاز کیا جائے جہاں لاکھوں شہری آج بھی معیاری پبلک ٹرانسپورٹ سے محروم ہیں، بالخصوص سمنگلی روڈ،پشتون آباد،سیٹلائٹ ٹاؤن،نیو اڈہ،تختانی بائی پاس،ہزار گنجی روٹ،مغربی بائی پاس،نوحصار تا ٹیکسی اسٹینڈ تک ان علاقوں میں روزانہ ہزاروں افراد تعلیم، روزگار، کاروبار اور علاج کی غرض سے سفر کرتے ہیں، لیکن مناسب ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات، اضافی اخراجات اور قیمتی وقت کے ضیاع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گرین بس اور پنک بسز سروس کی توسیع نہ صرف عوام کو ریلیف فراہم کرے گی بلکہ ٹریفک کے دباؤ، ماحولیاتی آلودگی اور غیر منظم ٹرانسپورٹ کے مسائل میں بھی نمایاں کمی لانے کا سبب بن سکتے ہیں ـ - [شہباز شریف: بلوچستان کی ترقی کے لیے وسائل اور تعاون جاری رہے گا](https://khabardar.com.pk/archives/4742): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب نے 2010 کے این ایف سی ایوارڈ کے بعد سے اب تک بلوچستان کو 150 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ - [بلوچستان حکومت نے مجھے سپورٹ کیا ہے باکسر سید بلال آغا](https://khabardar.com.pk/archives/4739): کویٹہ(خبردار نیوز) ساؤتھ ایشین باڈی بلڈنگ اینڈ فزیک چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والے نامور باڈی بلڈر سید بلال آغا کا وطن واپسی پر شاندار استقبال کیا گیا۔ ​مالدیپ میں منعقدہ ساؤتھ ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں پاکستان اور بلوچستان کا نام روشن کرنے والے گولڈ میڈلسٹ سید بلال آغا جب کویٹہ ایئرپورٹ پہنچے تو ان کے اہلخانہ، دوست احباب، شائقینِ کھیل اور محکمہ کھیل بلوچستان کے اعلیٰ حکام نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ اس موقع پر ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ہار پہنائے گئے۔ ​ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید بلال آغا نے اپنی تاریخی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اس کامیابی کا تمام تر سہرا میرے والدین کی دعاؤں اور ٹرینرز کی دن رات کی محنت کے سر جاتا ہے۔" ​انہوں نے مزید کہا کہ "بلوچستان حکومت نے میری بہترین سرپرستی اور سپورٹ کی، جس پر میں ان کا مشکور ہوں۔ آئندہ بھی اپنے صوبے اور ملک کا نام روشن کرنے کے لیے مزید تمغے جیتنے کی پوری کوشش کروں گا۔" ​ایک سوال کے جواب میں انہوں نے وضاحت کی کہ وہ جس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے کھیلتے ہیں وہ پاکستان سپورٹس بورڈ (PSB) سے باقاعدہ الحاق شدہ ہے۔ ماضی میں جو کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں، اب وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں اور ان کی تمام تر توجہ اب مستقبل کی پیش رفت پر مرکوز ہے۔ - [بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہےشہباز شریف](https://khabardar.com.pk/archives/4735): اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز بلوچستان کی ترقی میں مضمر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں طویل فاصلوں کے باعث انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے زیادہ وسائل کی ضرورت ہے۔ ​اسلام آباد میں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد چاروں صوبوں کا مسکن ہے اور قیامِ پاکستان سے لے کر استحکامِ پاکستان تک بلوچوں اور پشتونوں نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ بلوچستان کی سیاسی اور قبائلی قیادت نے ہمیشہ ذاتی عناد بالائے طاق رکھ کر وفاق کا ساتھ دیا ہے۔ ​این ایف سی ایوارڈ اور ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور 150 ارب روپے دیے۔ دیگر صوبوں نے بھی بلوچستان کی مدد کی، جو کوئی احسان نہیں بلکہ حقیقی بھائی چارہ ہے۔ قائد ن لیگ میاں نواز شریف کے دور سے لے کر پی ڈی ایم اور موجودہ حکومتوں تک بلوچستان کو ریکارڈ ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔ کراچی تا چمن دو رویہ شاہراہ پر کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ صوبے کے 27 ہزار ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت بلوچستان کی پیش رفت کے لیے کسی قسم کی کمی باقی نہیں چھوڑے گی۔ ​خطاب کے دوران وزیر اعظم نے سیشن جج عبدالحکیم کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں اور شہادتیں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم نے 90 ہزار سے زائد شہادتیں دی ہیں اور 2018 میں اس ناسور کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، تاہم موجودہ لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ ​وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا واضح الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغان رجیم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں مکمل ناکام رہی ہے، حالانکہ افغان حکام کو اس حوالے سے بارہا باور کرایا گیا ہے۔ ​انہوں نے مزید کہا کہ معرکہِ حق میں دشمن کو ہمیشہ کی طرح شکستِ فاش دی گئی ہے اور پاکستان کو حالیہ دنوں میں اہم کامیابیاں ملی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام درپیش معاشی و انتظامی مسائل کا حل صرف اور صرف شفاف اور مستحکم حکومتی نظام میں مضمر ہے۔ - [دفترِ خارجہ: مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی کے خلاف 8 عرب و اسلامی ممالک کا مشترکہ اعلامیہ جاری](https://khabardar.com.pk/archives/4730): اسلام آباد (نیوز ڈیسک)اسرائیل کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں مسلسل بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزی، صریح تجاوزات اور مقدس مقامات کی حرمت پامال کرنے کے خلاف پاکستان سمیت 8 اہم عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک سخت اور تاریخی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس اعلامیے میں اسرائیل کے تمام غیر قانونی اقدامات اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے والے ممالک پاکستان ،سعودی عرب ،ترکیہ ،مصر،انڈونیشیا،اردن،قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں اعلامیے کے اہم نکات اور تفصیلات 1. اسرائیلی وزراء اور آبادکاروں کی دراندازی اعلامیے میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی سرپرستی اور اسرائیلی افواج کی کڑی حفاظت میں غیر قانونی آبادکاروں کے مسلسل مسجدِ اقصیٰ/الحرم الشریف میں داخلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔ وزرائے خارجہ نے اسے قبلہ اول کی حرمت پر راست حملہ قرار دیا۔ 2. صحنِ اقصیٰ میں غیر قانونی اقدامات مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے زبردستی دو خیمے نصب کرنے اور وہاں عبادت گاہ کی کیفیات کو بدلنے کی تمام کوششوں کو اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی متعدد قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت (Status Quo) کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ وزرائے خارجہ نے واضح اور قاطع الفاظ میں بیان کیا کہ"اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں واقع کسی بھی اسلامی و مسیحی مقدس مقام پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔" اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی (demographic) حیثیت کو تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی شناخـت کو مٹانے کی تمام غیر قانونی کوششوں کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ اعلامیے میں بیت المقدس کے قدیم شہر اور بالخصوص مسجدِ اقصیٰ تک مسلمانوں کی رسائی پر من مانی اور امتیازی پابندیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ وزرائے خارجہ کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کو ان کی مقدس ترین عبادگاہوں سے روکنا بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہے۔ ۸ اسلامی و عرب ممالک کے وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کی ان فاشسٹ اور اشتعال انگیز پالیسیوں کا فوری نوٹس لیں اور خطے میں کسی بڑے مذہبی تصادم کو روکنے کے لیے اسرائیل پر اثر و رسوخ استعمال کر کے ان غیر قانونی اقدامات کو فوری طور پر بنوانا یقینی بنائیں۔ ## Pages - [Terms & Conditions](https://khabardar.com.pk/terms-conditions): Last Updated: April 2026 - [DISCLAIMER](https://khabardar.com.pk/disclaimer): آخری تازہ کاری: اپریل 2026 - [Contact Us](https://khabardar.com.pk/contact-us): ہم ہمیشہ آپ کے لیے حاضر ہیں۔ - [About Us](https://khabardar.com.pk/about-us): خبردار — باخبر رہیں، آگے رہیں۔ - [Privacy Policy](https://khabardar.com.pk/privacy-policy): Suggested text: Our website address is: https://khabardar.com.pk. - [Sample Page](https://khabardar.com.pk/sample-page): This is an example page. It's different from a blog post because it will stay in one place and will show up in your site navigation (in most themes). Most people start with an About page that introduces them to potential site visitors. It might say something like this: ## E-Papers - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعہ 7 اگست 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-7-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 5 اگست 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-5-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ منگل 4 اگست 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%d9%86%da%af%d9%84-4-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 3 اگست 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%be%db%8c%d8%b1-3-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ ہفتہ 1 اگست 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%db%81%d9%81%d8%aa%db%81-1-%d8%a7%da%af%d8%b3%d8%aa-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعہ 31 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-31-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعرات 30 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-30-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 29 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-29-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ منگل 28 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%d9%86%da%af%d9%84-28-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 27 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%be%db%8c%d8%b1-27-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ ہفتہ 23 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%db%81%d9%81%d8%aa%db%81-23-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعہ 24 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-24-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعرات 23 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-23-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 22 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-22-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ منگل 21 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%d9%86%da%af%d9%84-21-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 20 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a7%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b1-20-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ ہفتہ 18 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%db%81%d9%81%d8%aa%db%81-18-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعہ 17 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-17-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعرات 16 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-16-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 15 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-15-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ منگل 14 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%d9%86%da%af%d9%84-14-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 13 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%be%db%8c%d8%b1-13-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ ہفتہ 11 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%db%81%d9%81%d8%aa%db%81-11-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعہ 10 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-10-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ منگل 9 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%d9%86%da%af%d9%84-9-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 8 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-8-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 6 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%be%db%8c%d8%b1-6-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ ہفتہ 4 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%db%81%d9%81%d8%aa%db%81-4-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعہ 3 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-3-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعرات 2 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-2-%d8%ac%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 1 جولائی 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-30-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026-2) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 30 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-30-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 29 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%be%db%8c%d8%b1-29-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعرات 25 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-25-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 24 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-24-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ منگل 23 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%d9%86%da%af%d9%84-23-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 22 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%be%db%8c%d8%b1-22-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ ہفتہ 20 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%db%81%d9%81%d8%aa%db%81-20-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعہ 19 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-19-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعرات 18 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-18-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 17 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-17-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ منگل 16 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%d9%86%da%af%d9%84-16-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 15 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%be%db%8c%d8%b1-15-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ ہفتہ 13 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%db%81%d9%81%d8%aa%db%81-13-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعہ 12 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%db%81-12-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ جمعرات 11 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%ac%d9%85%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d8%aa-11-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ بدھ 10 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d8%a8%d8%af%da%be-10-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ منگل 9 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%d9%86%da%af%d9%84-9-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ پیر 8 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%be%db%8c%d8%b1-8-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026) - [روزنامہ خبردار کوئٹہ ہفتہ 6 جون 2026](https://khabardar.com.pk/archives/epaper/%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%ae%d8%a8%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%db%81%d9%81%d8%aa%db%81-6-%d8%ac%d9%88%d9%86-2026)