پاکستان میں گورنر راج کی تاریخ، کب کب ختم کی گئیں صوبائی حکومتیں؟
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک بار پھر صوبائی حکومتوں کی برطرفی اور وفاقی اختیارات کے استعمال سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد مختلف ادوار میں پنجاب، سندھ، بلوچستان اور سابق صوبہ سرحد میں گورنر راج یا اس نوعیت کے غیر معمولی انتظامی اقدامات کیے گئے، جن کے پس منظر میں سیاسی اختلافات، انتظامی بحران اور امن و امان کی صورتحال جیسے عوامل شامل رہے۔
پنجاب میں پہلی بار گورنر راج
پاکستان میں پہلی مرتبہ جنوری 1949 میں مغربی پنجاب، موجودہ پنجاب، میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت وزیراعظم لیاقت علی خان اور وزیراعلیٰ نواب افتخار حسین خان ممدوٹ کی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات پیدا ہوئے۔ نتیجتاً صوبائی حکومت برطرف کر دی گئی اور صوبے کے انتظامی اختیارات گورنر کے تحت آ گئے۔ یہ انتظام اپریل 1951 تک جاری رہا۔
دسمبر 1951 میں سندھ میں بھی گورنر راج نافذ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کو عہدے سے ہٹانے کے بعد گورنر میاں امین الدین نے صوبے کے انتظامی معاملات سنبھالے۔ یہ انتظام مئی 1953 تک برقرار رہا۔
بلوچستان میں 1973 کا سیاسی بحران
فروری 1973 میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت برطرف کر دی اور گورنر میر غوث بخش بزنجو کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں بدامنی اور عراقی سفارت خانے سے اسلحے کی مبینہ برآمدگی سمیت مختلف معاملات کو اس فیصلے کے پس منظر میں پیش کیا۔
بعد ازاں نواب اکبر خان بگٹی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کیا گیا، جبکہ صوبے میں براہِ راست انتظامی نظام قائم کیا گیا۔ بعد میں جام غلام قادر خان کی سربراہی میں صوبائی حکومت تشکیل دی گئی۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے سابقہ ادوار
خیبر پختونخوا، جسے ماضی میں صوبہ سرحد کہا جاتا تھا، میں بھی مختلف ادوار میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔
16 فروری 1975 کو صوبے میں گورنر راج نافذ ہوا۔ اس دور کے پس منظر میں حیات محمد خان شیرپاؤ کا قتل، نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی اور سیاسی کشیدگی جیسے واقعات شامل تھے۔ وزیراعلیٰ سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کی حکومت ختم ہوئی۔ 3 مئی 1975 کو نصراللہ خان خٹک نے وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالا اور گورنر راج کا دور ختم ہوا۔
25 فروری 1994 کو وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں وزیراعلیٰ پیر صابر شاہ کی حکومت برطرف کر دی گئی۔ گورنر ریٹائرڈ میجر جنرل خورشید علی خان نے صوبے کے انتظامی معاملات سنبھالے۔ 24 اپریل 1994 کو گورنر راج ختم ہوا اور آفتاب احمد خان شیرپاؤ وزیراعلیٰ بن گئے۔
2009 میں پنجاب اور 2013 میں بلوچستان
فروری 2009 میں پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف اور شہباز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد صوبے میں حکومت کا بحران پیدا ہوا۔ گورنر سلمان تاثیر نے انتظامی امور سنبھالے، جبکہ شہباز شریف کی حکومت عہدے پر برقرار نہ رہ سکی۔ تقریباً ایک ماہ بعد گورنر راج ختم کر دیا گیا۔
جنوری 2013 میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے افراد کی ہلاکتوں کے بعد احتجاج اور دھرنوں کے دوران بلوچستان میں گورنر راج نافذ کیا گیا۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی حکومت نے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت ختم کر کے گورنر نواب ذوالفقار مگسی کو صوبے کے انتظامی اختیارات سونپ دیے۔
اکتوبر 2026: خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا معاملہ
اکتوبر 2026 میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے ایک بار پھر سیاسی اور آئینی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس معاملے میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال، انسدادِ دہشت گردی اور وفاق و صوبے کے تعلقات اہم موضوعات بن گئے ہیں۔
تاہم گورنر راج کے نفاذ، اس کی قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کے اختیارات سے متعلق حتمی تفصیلات کی تصدیق سرکاری اعلامیے اور متعلقہ آئینی دستاویزات سے ضروری ہے۔ اس لیے اسے نافذ شدہ اقدام قرار دینے سے پہلے مستند سرکاری تصدیق دیکھنا اہم ہے۔
آئین میں گورنر راج کی کیا حیثیت ہے؟
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام چلانے میں ناکامی کی صورت میں مخصوص اقدامات کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے تحت صدرِ پاکستان آئینی شرائط کے مطابق صوبائی انتظامی اختیارات کے استعمال سے متعلق اعلان کر سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات پارلیمانی منظوری، مقررہ مدت اور آئینی طریقۂ کار کے تابع ہوتے ہیں۔
آرٹیکل 232 ہنگامی حالت سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام کی ناکامی کی صورت میں اقدامات سے متعلق ہے۔ گورنر راج، ایمرجنسی اور مارشل لا الگ الگ تصورات ہیں اور ان کی آئینی و قانونی بنیاد بھی مختلف ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گورنر راج کے مختلف واقعات وفاق اور صوبوں کے تعلقات، منتخب حکومتوں کے اختیارات اور آئینی نظام کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ متعلقہ اقدام کی قانونی بنیاد کیا ہے، اس کی مدت کتنی ہوگی اور صوبے میں منتخب حکومت کے اختیارات کا مستقبل کیا ہوگا۔