نوشکی میں خواتین کا قتل ایک بزدلانہ اور ناقابل تلافی جرم ہے۔

کوئٹہ (خبردار رپورٹ) بلوچستان اسمبلی کی خواتین اراکین اور صوبائی کابینہ کی نمائندگان نے کوئٹہ میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نوشکی میں ماں اور بیٹی کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ہے اور اسے کھلم کھلا دہشت گردی اور چادر و چار دیواری کی پامالی قرار دیا ہے۔
​پریس کانفرنس کے دوران صوبائی مشیر مینا مجید اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی کا کہنا تھا کہ مقتولہ فائزہ اور بی بی حنیفہ کا کوئی قصور نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ پرامن شہری تھیں۔ رہنمائوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس بزدلانہ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
​ان رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ یہ عناصر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام عوام کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
​خواتین اراکین کا کہنا تھا کہ خواتین کو تشدد کر کے قتل کرنا ایک ناقابل تلافی جرم ہے، جس کی ہر سطح پر بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔
​ راحیلہ درانی نے واضح کیا کہ خواتین کو ان کے کام اور محب وطنی کے جذبے سے روکنے کے ایسے ہتھکنڈے کسی صورت کامیاب نہیں ہوں گے اور اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد حاصل نہیں کر سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں