لاپتہ افراد کے حق میں عدلیہ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے، ساجد ترین

کوئٹہ(خبردار نیوز 8 بی این پی کے سینئر نائب صدر ساجد ترین نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کےایک تحریک چل رہی تھی جس کا آغاز 24 جولائی 2024 میں گوادر راجی مچی کے نام سے ہوا،
انہوں نے کہا کہ ساجد ترین نے کہا کہ بی این پی نے جمہوری پراسس کے تحت بلوچستان کے حقوق کےلئے آواز اٹھائی ہے جبکہ بلوچ عوام کے حقوق کےلئے بی ایس او نے جدوجہد کی ہے
ساجد ترینکے مطابق بلوچوں کی شناخت ختم کرنے کےخلاف بی این پی اور بی ایس او نے ڈھال کا کام کیاہے،
لیکن بدقسمتی سے یہاں جس نے ساحل وسائل کی بات کی اسکو یاتو لاپتہ کردیاگیایا مار دیاگیا،
ساجد تریننے یہ بھی کہا کہ بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے ہمیشہ لاپتہ افراد کے حق میں عدلیہ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے،
ساجد ترین زہری میں سردار نصیر موسیانی کے سامنے اس کے بیٹے کو قتل کیاگیا،جبکہ بی ایس او کے چیئرمین بالاچ قادر اوردیگر عہدیداروں کے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی، اور اب گوادر سے مقدمہ کوئٹہ ٹرانسفر کیاگی
بی این پی کے نائب نے الزام لگایا کہ پراسیکیوشن اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہی ہے، جس کے باعث نوجوان آئین کو نہیں مانتے اور ناہی اس پر یقین رکھتے ہیں ،جس سے موجودہ صورتحال میں حالات درست نہیں بلکہ مزید خراب ہو رہے ہیں
ایک سوال کے جواب میں ساجد ترین نے کہا کہ بلوچوں پر جعلی مقدمات درج کئے گئے ہیں
،جبکہہوم ڈیپارٹمنٹ نے 137 لوگوں کی نام فورتھ شیڈول میں شامل کئے گئےہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں