کوئٹہ (خبردار نیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوئٹہ کا ایک اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کی اور صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر داخلہ کو بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، جاری سیکورٹی اقدامات اور آئندہ کی جامع حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں انسداد دہشت گردی فورس (CTD) اور بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید بہتر بنایا جائے گا۔
وزارت داخلہ نے بلوچستان پولیس کو مضبوط بنانے اور سیکورٹی فیصلوں پر پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے درکار تمام وسائل کی فراہمی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے درج ذیل اہم نکات پر زور دیاکہ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون اور وسائل کی فراہمی جاری رکھے گی۔
اوربحالیِ امن کے لیے تیار کردہ ماسٹر پلان پر فوری اور مؤثر عمل درآمد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے میں بلوچستان پولیس کے سابق سربراہان کے تجربات اور مشاورت سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔
اس کے علاؤہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر انٹیلی جنس اور مربوط حکمت عملی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں امن اور خوشحالی کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہامہریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی اور دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کے لیے صوبے میں کوئی جگہ نہیں چھوڑی جائے گی۔ ہم ہر محاذ پر ایک قدم آگے رہیں گے اور کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، معیاری تعلیم، ہنر (Skill) اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
میرٹ کی شفاف بالادستی قائم کر کے نوجوانوں کا اعتماد بحال کیا جا رہا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع دیے جا رہے ہیں۔
امن، ترقی اور خوشحالی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، حکومت دونوں محاذوں پر بیک وقت پیش رفت یقینی بنا رہی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وفاق اور صوبائی حکومت نے عزم کا اظہار کیا کہ وفاق کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور جاری ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا۔