پشتون قوم کی تاریخ قدیم اور شاندار روایات کی امین ہے، جبکہ پشتو زبان خطے کی اہم اور بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے جعفر خان مندوخیل

کوئٹہ 23 سٹمبر: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے پشتون کلچر ڈے کے موقع پر پوری پشتون قوم بالخصوص نوجوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تاریخ سے روشنی، اپنی ثقافت سے شناخت، علم سے طاقت اور اپنے مستقبل سے امید حاصل کریں۔
ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں اپنی ثقافتی جڑوں سے وابستگی اور جدید دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگی ایک دوسرے کی ضد نہ ہوں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل بنیں۔
انسانی تہذیب کا سفر دراصل انسان کی مسلسل تخلیقی، فکری اور سماجی ترقی کی داستان ہے۔
لفظ کلچر کی جڑیں لاطینی زبان کے لفظ کلتور سے وابستہ ہیں، جس کا بنیادی مفہوم زمین کی کاشت اور زرخیزی سے متعلق ہے۔
وقت کے ساتھ یہی تصور انسانی ذہن، معاشرے اور تہذیب کی تعمیر و نشوونما تک پھیل گیا۔
انسان نے اپنی بودوباش، علم، فنون، معیشت اور سماجی اداروں کو مسلسل ترقی دی اور ثقافت سے تہذیب تک کا سفر طے کیا۔
آج انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید مواصلاتی ذرائع نے دنیا کو ایک دوسرے کے مزید قریب لا کر عالمی تہذیب کے ارتقا کی رفتار کو کئی گنا تیز کر دیا ہے۔
پشتون کلچر ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت، اجتماعی یاداشت اور تاریخی تسلسل کی علامت ہوتی ہے۔
پشتون کلچر ڈے ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی روایات کی مثبت اقدار کو نئی نسلوں تک منتقل کرتے ہوئے انہیں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرینگے۔
پشتون قوم کی تاریخ قدیم اور شاندار روایات کی امین ہے،
جبکہ پشتو زبان خطے کی اہم اور بڑی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ پشتون معاشرہ آج بھی اپنی دلکش روایتی پوشاک، ذائقہ دار کھانوں، روایتی رقص، عدالتی نظام جرگہ، سخاوت، انسان دوستی اور مہمان نوازی جیسی قابلِ قدر روایات کے باعث ایک منفرد ثقافتی شناخت رکھتا ہے۔
پشتون ثقافت کی خوبصورتی اس کے اجتماعی مزاج، وقار اور باہمی احترام میں بھی پنہاں ہے۔
شملہ پشتون معاشرے میں وقار اور شناخت کی علامت ہے تو شال ہماری آبادی کے ایک بڑے اور اہم حصے کی نمائندگی کرتی ہے۔
اسلیے ہماری ثقافتی ترقی اور سماجی پیشرفت بھی اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جب معاشرے کے مرد اور خواتین برابر احترام، مواقع اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں۔
شملہ اور شال، دونوں ملکر ہی ایک متوازن اور ترقی یافتہ معاشرے کی تصویر مکمل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پشتون کلچر ڈے محض اپنی ثقافت کو یاد کرنے کا دن نہیں بلکہ تجدیدِ عہد کا دن بھی ہے۔
ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدید علم کے میدان میں بھی آگے بڑھیں گے۔
ہماری نئی نسل اپنی شناخت پر فخر کرتے ہوئے دنیا کے جدید تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کرے، یہی ہماری حقیقی کامیابی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں