دیہی خواتین کے حقوق اور معاشی خودمختاری کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ

دیہی خواتین کے عالمی دن پر عورت فاؤنڈیشن اور ایواء جی الائنس کا خواتین کے حقوق، تحفظ اور معاشی خودمختاری کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ

کوئٹہ، 15 اکتوبر 2026ء: عورت فاؤنڈیشن بلوچستان اور اینڈنگ وائلنس اگینسٹ ویمن اینڈ گرلز الائنس (ایواء جی الائنس) نے دیہی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان سمیت ملک بھر کی دیہی خواتین کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کو تعلیم، صحت، روزگار، وراثت، زرعی وسائل اور فیصلہ سازی میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔

دونوں اداروں کے مطابق دیہی خواتین زراعت، مال مویشیوں کی دیکھ بھال، دستکاری، کڑھائی، قالین بافی اور خاندانوں کی کفالت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم ان کی محنت کو مناسب معاشی اہمیت نہیں دی جاتی اور انہیں متعدد سماجی و معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی دیہی خواتین کو غربت، ناخواندگی، صحت کی ناکافی سہولیات، صاف پانی کی کمی، خشک سالی، موسمیاتی تبدیلیوں اور روزگار کے محدود مواقع جیسے مسائل درپیش ہیں۔ زمین و جائیداد کے حقوق، وراثت میں حصہ، آسان قرضوں اور منڈیوں تک رسائی کی مشکلات بھی ان کی معاشی خودمختاری میں رکاوٹ ہیں۔

عورت فاؤنڈیشن اور ایواء جی الائنس نے حکومت بلوچستان پر زور دیا کہ دیہی خواتین کے لیے معیاری تعلیم، صحت، فنی تربیت، صاف پانی اور محفوظ سفری سہولیات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے۔ خواتین کسانوں اور مال مویشی پالنے والی خواتین کو جدید زرعی ٹیکنالوجی، بہتر بیج، مویشیوں کی صحت سے متعلق سہولیات اور پانی کے مؤثر استعمال کی تربیت فراہم کی جائے۔

دونوں اداروں نے مطالبہ کیا کہ خواتین کو کم لاگت قرضوں، مالیاتی و ڈیجیٹل سہولیات اور کاروباری تربیت تک رسائی دی جائے، جبکہ ان کی تیار کردہ زرعی مصنوعات اور دستکاری کی مناسب قیمت اور فروخت کے لیے مقامی و آن لائن منڈیوں کے مواقع پیدا کیے جائیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ دیہی خواتین کے زمین اور وراثت کے حقوق کے تحفظ، گھریلو تشدد کی روک تھام اور متاثرہ خواتین کو قانونی و سماجی معاونت فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ خواتین کے تحفظ کے لیے محفوظ پناہ گاہوں، قانونی مدد اور شکایات کے ازالے کے نظام کو بھی مضبوط بنایا جائے۔

اداروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دیہی خواتین کے لیے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ، متعلقہ سرکاری محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور ضلعی سطح پر خواتین کی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔ خواتین کو مقامی حکومتوں، کسان تنظیموں اور پالیسی سازی کے فورمز میں بھی مؤثر کردار دیا جائے۔

عورت فاؤنڈیشن بلوچستان اور ایواء جی الائنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دیہی خواتین کے حقوق، تحفظ، بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کے فروغ کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

اداروں کا کہنا تھا کہ دیہی خواتین کی محنت کا اعتراف اسی وقت بامعنی ہوگا جب انہیں بنیادی حقوق، معاشی وسائل، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں