کوئٹہ (خبردار رپورٹ ) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ کھیل میں بھرتیوں کا معاملہ شدت کے ساتھ اٹھایا گیا، جہاں اپوزیشن اراکین نے بھرتیوں میں بے ضابطگیوں اور اقربا پروری کے الزامات عائد کیے،
جبکہ صوبائی حکومت نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تمام بھرتیاں میرٹ پر کی جا رہی ہیں۔
اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے رکن اسمبلی اسفندیار کاکڑ نے الزام عائد کیا کہ برشور میں محکمہ کھیل کے اندر باہر کے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے،
جس سے مقامی نوجوانوں میں تحفظات اور خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کھیل میں بھرتیوں میں بدعنوانی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اپوزیشن رکن اسمبلی اصغر ترین نے مزید شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ کھیل کی غفلت اور من مانیوں کی وجہ سے شفافیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پشین میں کلاس فور کی نوکریوں پر دیگر اضلاع کے لوگوں کو بھرتی کیا گیا ہے، جہاں ڈی سی، سیکرٹری اور کمیٹی کے اراکین نے اپنا اپنا کوٹہ مقرر کر رکھا ہے اور نوکریاں من مرضی سے بانٹی جا رہی ہیں جس کا ملبہ اراکینِ اسمبلی پر ڈالا جاتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسمبلی فلور پر کابینہ کے ایک وزیر نے بھرتیوں کی فروخت کے حوالے سے الزام لگایا ہے، جبکہ غریب کلاس فور ملازمین دفاتر کے چکر لگا کر تھک چکے ہیں۔
اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر ظہور بلیدی نے ایوان میں سخت مؤقف اپنایا اور کہا کہ اراکینِ اسمبلی کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات قطعی درست نہیں۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ تمام بھرتیاں شفاف طریقے سے میرٹ پر کی جا رہی ہیں اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے پہلے روز ہی واضح کر دیا تھا کہ نوکریاں بیچنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر کسی کے پاس نوکری بیچنے یا بدعنوانی کا کوئی ثبوت ہے تو وہ سامنے لائے، اس پر فوری اور سخت کارروائی کی جائے گی۔