کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے خستہ حال سرکاری سکول عمارتوں سے متعلق رپورٹ طلب

کوئٹہ، (خبردار نیوز) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایات کی روشنی میں سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ بلوچستان لعل جان جعفر نے صوبے کے تمام اضلاع میں سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا فوری اور جامع معائنہ کرنے،
خستہ حال اور ساختی طور پر کمزور عمارتوں کی نشاندہی کرنے اور طلبہ، اساتذہ سمیت دیگر عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تمام ضلعی افسرانِ تعلیم کو جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ حالیہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے دی گئی ہدایات اور خیبر پختونخوا میں اسکول کی عمارت گرنے کے حالیہ افسوسناک واقعے کے تناظر میں تعلیمی اداروں میں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔
طلبہ اور تعلیمی عملے کی جان و سلامتی اولین اہمیت رکھتی ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں۔
ہدایت نامے کے مطابق تمام ضلعی افسرانِ تعلیم اپنے متعلقہ اضلاع کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا فوری معائنہ کریں اور ایسی عمارتوں، کلاس رومز یا حصوں کی نشاندہی کریں جو خستہ حالی، ساختی کمزوری یا کسی بھی دوسرے سبب سے غیر محفوظ ہوں۔
بالخصوص دیواروں میں نمایاں دراڑوں، خراب چھتوں، کمزور دیواروں اور بنیادوں، بوسیدہ ڈھانچوں اور دیگر ممکنہ حفاظتی خطرات کے حامل اسکولوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔
سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ نے ہدایت کی ہے کہ کسی بھی اسکول کی عمارت، کلاس روم یا اس کا کوئی حصہ غیر محفوظ محسوس ہونے کی صورت میں وہاں تدریسی سرگرمیاں اور دیگر امور فوری طور پر روک کر طلبہ اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔
متعلقہ عمارت یا حصے میں داخلے پر اس وقت تک سختی سے پابندی عائد رکھی جائے جب تک مجاز تکنیکی حکام اس کی ساختی سلامتی کا معائنہ کرکے اسے محفوظ قرار نہ دے دیں۔
کسی بھی صورت میں طلبہ یا عملے کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ہدایت نامے میں ضلعی افسرانِ تعلیم کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خطرناک اور غیر محفوظ عمارتوں کے حوالے سے اسکول وار تفصیلی رپورٹ مرتب کریں،
جس میں ساختی خطرے کی نوعیت اور شدت، متاثرہ طلبہ کی تعداد، کیے گئے فوری حفاظتی اقدامات اور مرمت، بحالی یا ازسرِنو تعمیر کی ضروریات واضح طور پر درج ہوں۔ تمام اضلاع کی یکجا رپورٹ ترجیحی بنیادوں پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کو ارسال کی جائے
تاکہ مزید ضروری کارروائی اور عمارتوں کی تکنیکی جانچ کے لیے متعلقہ تفصیلات محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ساتھ شیئر کی جا سکیں۔
سیکرٹری سیکنڈری اسکولز ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے کو انتہائی ہنگامی نوعیت کا حامل سمجھا جائے۔ کسی غیر محفوظ اسکول کی عمارت کے حوالے سے بروقت حفاظتی اقدامات کرنے میں غفلت، تاخیر یا ناکامی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا
اور ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے ضلعی افسرانِ تعلیم پر زور دیا کہ وہ ان ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنائیں
تاکہ تعلیمی اداروں میں محفوظ ماحول برقرار رکھا جا سکے اور طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے کو کسی بھی ممکنہ حادثے سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں