کوئٹہ (خصوصی رپورٹ)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صوبائی قائدین نے پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کو گہری سیاسی سازش اور انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ اے این پی ماضی کی طرح اس سازش کا بھی قانونی اور سیاسی طور پر بھرپور مقابلہ کرے گی اور اس کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے رہنماؤں عبیداللہ عابد، زمرک اچکزئی اور دیگر صوبائی قائدین نے کہا کہ متاثرہ فریق نے حلفیہ بیان کے ذریعے اصغر خان اچکزئی سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے،
جس کے بعد ان کا نام مقدمے میں شامل کرنے کی کوئی قانونی و اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔
ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اصغر خان اچکزئی ایک مقبول سیاسی و قبائلی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ پشتون اور بلوچ عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے
اور علاقے میں قبائلی تنازعات کے حل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے خلاف یہ قدم ان کی توانا آواز کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں سے این پی کے رکن زمرک اچکزئی نے کہا کہ ہم عدلیہ اور پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں، لیکن کالا قانون اور اندھی عدالت کے فیصلوں پر تشویش ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ “ہم تو خطے سے قبائلی دشمنیاں ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، ہم خود کسی کے قتل کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟”
انہوں نے واضح کیا کہ اس فیصلے کے خلاف جلد ہائی کورٹ جائیں گے۔
موقف پر قائم رہنے کا عزم: اے این پی کے قائدین نے دہرایا کہ پارٹی اپنے اصولی اور قانونی موقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی اور ہر سازش کا جمہوریت کے دائرے میں رہ کر مقابلہ کرے گی۔
کارکنوں کو پرامن رہنے کی ہدایت: پریس کانفرنس کے اختتام پر اے این پی کے رہنماؤں نے تمام کارکنوں اور عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کے سیاسی و قانونی لائحہ عمل کا اعلان جلد کیا جائے گا۔