بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہےشہباز شریف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز بلوچستان کی ترقی میں مضمر ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں طویل فاصلوں کے باعث انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے زیادہ وسائل کی ضرورت ہے۔
​اسلام آباد میں بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد چاروں صوبوں کا مسکن ہے اور قیامِ پاکستان سے لے کر استحکامِ پاکستان تک بلوچوں اور پشتونوں نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔
بلوچستان کی سیاسی اور قبائلی قیادت نے ہمیشہ ذاتی عناد بالائے طاق رکھ کر وفاق کا ساتھ دیا ہے۔
​این ایف سی ایوارڈ اور ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور 150 ارب روپے دیے۔
دیگر صوبوں نے بھی بلوچستان کی مدد کی، جو کوئی احسان نہیں بلکہ حقیقی بھائی چارہ ہے۔ قائد ن لیگ میاں نواز شریف کے دور سے لے کر پی ڈی ایم اور موجودہ حکومتوں تک بلوچستان کو ریکارڈ ترقیاتی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔
کراچی تا چمن دو رویہ شاہراہ پر کام تیزی سے جاری ہے، جبکہ صوبے کے 27 ہزار ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت بلوچستان کی پیش رفت کے لیے کسی قسم کی کمی باقی نہیں چھوڑے گی۔
​خطاب کے دوران وزیر اعظم نے سیشن جج عبدالحکیم کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں اور شہادتیں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم نے 90 ہزار سے زائد شہادتیں دی ہیں اور 2018 میں اس ناسور کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، تاہم موجودہ لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
​وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کا واضح الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغان رجیم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں مکمل ناکام رہی ہے،
حالانکہ افغان حکام کو اس حوالے سے بارہا باور کرایا گیا ہے۔
​انہوں نے مزید کہا کہ معرکہِ حق میں دشمن کو ہمیشہ کی طرح شکستِ فاش دی گئی ہے اور پاکستان کو حالیہ دنوں میں اہم کامیابیاں ملی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام درپیش معاشی و انتظامی مسائل کا حل صرف اور صرف شفاف اور مستحکم حکومتی نظام میں مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں