اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی ‘میٹا’ (Meta) کو پاکستان کی ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کی باقاعدہ دعوت دے دی ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے میٹا کے اس اقدام کا شاندار خیرمقدم کیا جس کے تحت میٹا پاکستان کی 1,000 چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں (SMEs) کو مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل بزنس کی مفت تربیت فراہم کرے گا۔
بتایاگیا کہ میٹا کا یہ ایس ایم ای (SME) ٹریننگ پروگرام اگست سے نومبر تک جاری رہے گا۔: اس پروگرام میں خواتین کاروباری شخصیات (Women Entrepreneurs) اور چھوٹے شہروں سے تعلق رکھنے والے کاروباروں کو خصوصیت کے ساتھ شامل کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ 1,000 پاکستانی ایس ایم ایز کو AI ٹولز، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، اور آن لائن کاروباری مہارتوں کی جدید تربیت دی جائے گی۔
جام کمال خان نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان اس وقت ملک میں ای کامرس اور مصنوعی ذہانت (AI) کی جامع پالیسیوں کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں میٹا نے بھی پیشکش کی ہے کہ وہ عالمی ماہرین کے ذریعے پاکستان کی ان ڈیجیٹل پالیسیوں کی تشکیل میں تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔
دونوں فریقین کے درمیان مصنوعی ذہانت، ای کامرس، ڈیجیٹل تجارت اور ایس ایم ایز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے باہمی تعاون کو مسلسل جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔
وفاقی وزیر تجارت کا کہناتھا کہ پاکستانی کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بھرپور استعمال کرنا ہو گا۔جو یک محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام (Digital Payment System) ای کامرس کے فروغ اور صارفین کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔”
اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی کثیر نوجوان آبادی اور تیزی سے ترقی کرتی ڈیجیٹل معیشت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے بہترین اور منافع بخش مواقع فراہم کرتی ہے۔”
وزیر تجارت نے یقین دہانی کرائی کہ ان کی وزارت میٹا کو ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس، تجارتی تنظیموں اور کاروباری ایسوسی ایشنز کے ساتھ فوری اور موثر روابط قائم کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔