ماضی میں ملک دو لخت ہو گیا لیکن عوام کا جمہوری مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا۔

لاہور (خبردار نیوز) ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام نئے انتظامی یونٹس کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا،
جس میں سابق وزیر داخلہ و سینیٹر اعتزاز احسن، پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات شہزاد سعید چیمہ اور سینئر صحافی امتیاز عالم سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے شرکت کی۔
​اعتزاز احسن کے خطاب کرشتے ہوئے کہا کہ انگریز کے بنائے ہوئے انتظامی ڈھانچے اور مشینری میں مالی سے لے کر فیڈرل سیکرٹری تک اور گوادر سے لاہور تک لاکھوں افراد ڈیوٹی دے رہے ہیں، لیکن 1947ء سے لے کر آج تک اس 79 سالہ نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی۔
​بلدیاتی انتخابات: کسی سیاسی جماعت نے سنجیدگی سے لوکل گورنمنٹ کے الیکشن کرانے کی کوشش نہیں کی۔ بلدیاتی نظام کسی کا متبادل نہیں بلکہ بنیادی جمہوریت ہے اور اس کے انتخابات بروقت ہونے چاہئیں۔
​معاشی صورتحال: پاکستان پر 150 ارب ڈالر سے زائد کا قرضہ چڑھ چکا ہے اور ہم اپنی آئندہ نسلوں کا سرمایہ اور کمائی استعمال کر رہے ہیں۔
​تحریک کی ضرورت: ملک کے موجودہ حالات میں ایک منظم اور وسیع تر عوام پر مبنی تحریک کی شدید ضرورت ہے۔
​شہزاد سعید چیمہ کا موقف:
​آئینی معاہدہ: 1973ء کا متفقہ آئین پاکستان کا بنیادی سوشل کنٹریکٹ (عمرانی معاہدہ) ہے۔
​قانون سازی پر سوالات: 18ویں ترمیم کے علاوہ جتنی بھی آئینی و قانونی ترمیمیں کی گئیں، ان کے محرکات پر سوالیہ نشان رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔
​امتیاز عالم نے اپنے ا خطاب میں کہا کہ ماضی میں ملک دو لخت ہو گیا لیکن عوام کا جمہوری مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا گیا۔
​اگر ملک کا نظام خود آئین کی بالادستی کو ماننے سے قاصر ہے تو ایسے قوانین کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔
​انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قومی اکائیاں ہی وہ آئینی یونٹس ہیں جن سے وفاق تشکیل پاتا ہے۔
​لیکن بدقسمتی سے فیڈریشن کے اہم ترین فورم ‘مشترکہ مفادات کونسل’ کا گزشتہ 2 برس سے کوئی اجلاس ہی منعقد نہیں ہو سکا جو کہ افسوسناک عمل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں