اسلام آباد، ( خبردار نیوز ) پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے تحت 21 سے 27 ستمبر تک ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے دوران ملک بھر کے 115 ہائی رسک اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔
ستمبر کی یہ مہم بلوچستان، گلگت بلتستان، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں منعقد کی جائے گی۔ مہم کے دوران ان علاقوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جہاں پولیو وائرس کا خطرہ زیادہ ہے۔
یہ مہم افغانستان میں جاری انسدادِ پولیو سرگرمیوں کے ساتھ بیک وقت منعقد کی جائے گی تاکہ دونوں ممالک میں پولیو وائرس کی منتقلی روکنے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
مہم سے قبل وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، محترمہ عائشہ رضا فاروق نے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سے صحت کے شعبے کو کور کرنے والے صحافیوں کے ساتھ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) میں خصوصی نشست منعقد کی۔
اس موقع پر پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کی قیادت اور تکنیکی ماہرین نے صحافیوں کو ستمبر کی مہم کی تیاریوں، نگرانی کے نتائج اور ہر اہل بچے تک رسائی یقینی بنانے کے لیے جاری اقدامات پر بریفنگ دی۔
ستمبر کی مہم ہائی رسک اور ہاٹ اسپاٹ علاقوں میں بچوں کی قوتِ مدافعت مزید مضبوط بنانے اور حفاظتی خلا کو پُر کرنے کا اہم موقع ہے۔ اس مہم سے پولیو وائرس کی مسلسل منتقلی کے خطرے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
مہم کے دوران 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد تربیت یافتہ فرنٹ لائن ورکرز بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔
پاکستان میں 2026 کے دوران اب تک پولیو وائرس کے چار تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں تین خیبر پختونخوا اور ایک سندھ سے ہے۔
بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی اور ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی مسلسل نشاندہی اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں، پولیو کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے اور وائرس کی موجودگی کی صورت میں فوری اور مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔
پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کو پولیو ویکسین کے ساتھ معمول کی حفاظتی ویکسینیشن بھی مکمل کروائی جائے۔
پولیو مہم کے دوران پلائے جانے والے پولیو کے قطرے (OPV) بچوں کو پولیو وائرس کے خلاف اضافی تحفظ فراہم کرتے ہیں، جبکہ معمول کی ویکسینیشن بچوں کو دیگر خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھتی ہے۔
پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام اور توسیعی پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات (EPI) ایسے بچوں تک پہنچنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں جن کی ویکسینیشن مکمل نہیں ہوئی۔
وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ “ستمبر کی انسدادِ پولیو مہم ہائی رسک علاقوں میں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچنے اور انہیں پولیو سے محفوظ بنانے کا ایک اہم موقع ہے۔
میں والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں، چاہے بچے کو پہلے بھی پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہوں۔”
میڈیا کے نمائندوں نے قومی ادارہ صحت (NIH) میں قائم پولیو لیبارٹری کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں پولیو وائرس کی تشخیص، ماحولیاتی نمونوں کی جانچ اور ان مراحل کے بارے میں آگاہ کیا گیا جن کی مدد سے پولیو پروگرام اہم فیصلے کرتا اور وائرس کے خلاف بروقت کارروائی یقینی بناتا ہے۔
پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام والدین، نگہداشت کرنے والوں اور تمام طبقاتِ معاشرہ سے اپیل کرتا ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں اور ہر مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔
ہر مہم میں مسلسل شرکت بچوں کے تحفظ، پولیو وائرس کی منتقلی روکنے اور پولیو سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔