امریکی تباہی کن بموں کی اسرائیل کو فراہمی

پینٹاگون (مانیٹرنگ ڈیسک)
امریکا کی جانب سے اسرائیل کو بھاری اور تباہ کن بموں کی بڑی کھیپ فراہم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے، جس میں 40 ہزار ایم کے 84 ہیمر اور بی ایل یو 109 بنکر بسٹر بم شامل ہیں۔
ان میں سے ہر بم کا وزن تقریباً 2 ہزار پاؤنڈ یعنی قریباً ایک ٹن ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ حالیہ برسوں کے دوران اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے امریکی اسلحے کی بڑی کھیپ میں سے ایک ہے۔
ایم کے 84 ہیمر بموں کو امریکی ہتھیاروں میں انتہائی تباہ کن بم تصور کیا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے 2023 میں غزہ میں اسی نوعیت کے بھاری بم استعمال کیے،
جن کے گرنے کے مقامات پر بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے۔
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے تقریباً دو سال قبل ان بموں کی ترسیل روک دی تھی۔
بائیڈن انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ اسرائیل ان بموں کے ذریعے فلسطینی علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بموں کی نئی کھیپ اسرائیل کو فراہم کرنے کے منصوبے سے کانگریس کو غیر رسمی طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں