بلوچستان حکومت کا دہشت گردی کے خلاف 18 نئے قوانین اور 17 محکمے قائم کرنے کا اعلان

کوئٹہ (خبردار رپورٹ)صوبائی حکومت بلوچستان نے گزشتہ دو سالوں کے دوران امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 18 نئے قوانین پاس کیے اور 17 نئے محکمے قائم کیے ہیں، جبکہ 11 لاکھ سے زائد غیر ملکی مہاجرین کو ان کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔
​یہ بات صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو، وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات شاہد رند اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے کوئٹہ میں ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
​14 ارب کی سرمایہ کاری اور 60 ہزار سے زائد آپریشنز
​پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے سیکیورٹی کے شعبے پر 14 ارب روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ صوبے میں امن کی بحالی کے لیے اب تک مختلف نوعیت کے 60 ہزار سے زائد سیکیورٹی آپریشنز کیے جا چکے ہیں۔
​انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں گواہوں اور ججز کے تحفظ کے لیے فیس لیس عدالتیں قائم کر دی گئی ہیں۔
​شاہراہوں کا تحفظ: اگلے 3 سے 4 ماہ کے اندر کوئٹہ – کراچی اور کوئٹہ – تفتان شاہراہوں کو مکمل طور پر محفوظ بنا دیا جائے گا۔
​اس کے سیف سٹی پروجیکٹ، فرانزک ایجنسی اور کوئٹہ سیکیورٹی بورڈ کے قیام سمیت نئے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا کام تیزی سے جاری ہے۔
​سیاسی ردعمل اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر تبصرہ
​پریس کانفرنس کے دوران صوبائی وزیر داخلہ ضیاء اللہ لانگو نے مولانا فضل الرحمان کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں گمراہ کن قرار دیا۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گردی ملک کے لیے ایک ناسور ہے۔ فورسز کو مضبوط بنانے اور ان کی تمام ضروریات پوری کرنے کے لیے ہم نے قانون سازی کی۔
اگر خیبر پختونخوا میں بھی ایسے بروقت اقدامات کیے جاتے تو وہاں ایمرجنسی لگانے کی نوبت نہ آتی۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں