کوئٹہ: پولیس نے شہر میں بڑھتی ہوئی وہیکل لفٹنگ کی وارداتوں کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے گاڑیوں کی چوری میں ملوث بین الصوبائی گروہ کو دبوچ لیا۔
ملزمان کے قبضے سے متعدد لگژری گاڑیاں، موٹرسائیکل، ٹریکر ڈیوائسز اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا جدید آلات کا ذخیرہ برآمد کر لیا گیا ہے
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی ڈی آئی جی پولیس عمران شوکت اور ایس ایس پی آپریشنز ضیاء الحق مندوخیل کی خصوصی ہدایات اور نگرانی میں عمل میں لائی گئی۔ پولیس نے خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے شہباز ٹاؤن کے رہائشی مرکزی ملزم عمران کو حراست میں لیا۔
گرفتار ملزم سے جب سختی سے تفتیش کی گئی تو اس نے انکشاف کیا کہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر کوئٹہ اورگردونواح کے مختلف علاقوں سے کرائے پر گاڑیاں حاصل کرتا تھا،
بعد ازاں گاڑیوں میں نصب ٹریکرز کو نکال کر انہیں ناکارہ بنایا جاتا اور مسروقہ گاڑیاں دیگر علاقوں میں فروخت کر دی جاتی تھیں۔
ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے کارروائی کا دائرہ وسیع کیا، جس کے نتیجے میں درج ذیل مسروقہ تین عدد گاڑیاں برآمد کی گئیں، 5 عدد ٹریکر اور وہیکل لفٹنگ اور لاک توڑنے میں استعمال ہونے والے جدید آلات۔
تحقیقات کے دوران ملزمان کے نیٹ ورک کے دیگر کارندوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
تفتیش کے دوران ملزمان کی نشاندہی پر اسلام آباد پولیس سے قریبی رابطہ کیا گیا اور ان کے تعاون سے ایک جیپ بھی کامیابی کے ساتھ برآمد کرا لی گئی، جو کہ اس گروہ نے وفاقی دارالحکومت منتقل کی تھی۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جس میں مزید اہم انکشافات اور مزید گاڑیوں کی برآمدگی متوقع ہے۔
کوئٹہ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کرائے پر گاڑیاں دیتے وقت یا پرانی گاڑیاں خریدتے وقت مکمل تصدیق ضرور کریں تاکہ اس قسم کے عناصر کے عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے۔