بھار ت اور افغانستان گھڈ جوڑ: پاکستان میں دہشت گردی ہورہی ہے -ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو دیا گیا یہ انٹرویو پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور ملک کے اندرونی حالات کے حوالے سے انتہائی جامع اور اہم نکات پر مشتمل ہے۔
آپ نے اس انٹرویو کے جو اہم نکات درج کیے ہیں، ان کا خلاصہ درج ذیل اہم حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱. انسداد دہشت گردی کی واضح حکمت عملی
پاکستان کے پاس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک واضح حکمت عملی موجود ہے۔ اس میں یہ حقیقت تسلیم کی گئی ہے کہ کچھ مسائل بیرونی ہیں جبکہ کچھ اندرونی نوعیت کے ہیں جنہیں خود حل کرنا ہوگا۔
افغانستان کو دہشت گردوں کا بنیادی اڈا قرار دیا گیا ہے جہاں ان کی قیادت، تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈز موجود ہیں، تاہم تمام تر ذمہ داری صرف بیرونی عوامل پر نہیں ڈالی جاتی۔

۲. خیبرپختونخوا اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs)
فوجی آپریشنز کے بجائے IBOs: خیبرپختونخوا میں کسی بڑے روایتی فوجی آپریشن کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا رہے ہیں جو فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کے پی کے غیور اور بہادر عوام ہمیشہ سے امن و استحکام کے مستحق ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں۔ مخالفت وہی لوگ کرتے ہیں جن کا دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہو۔

۳. بلوچستان کی صورتحال اور ترقی دشمن عناصر
ترقیاتی منصوبوں پر حملے: دہشت گرد بلوچستان میں مائننگ، ایل پی جی ٹرکوں، سکولوں، اساتذہ، پلوں اور ریلوے لائنوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ معاشی سرگرمیاں معطل ہوں اور روزگار کے مواقع ختم ہوں۔
صوبے کے مفاد پرست عناصر اور دہشت گرد مل کر بلوچ عوام کو غربت اور پسماندگی میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا “محرومی کا بیانیہ” زندہ رہے اور وہ اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں