پی ایف یو جے کی کال: بی یو جے کا صحافیوں کے حقوق اور پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز

کوئٹہ (خبردار نیوز)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی کال پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (BUJ) نے صحافیوں کی جبری برطرفیوں، بیورو دفاتر کی بندش اور آزادیِ صحافت پر پابندیوں کے خلاف احتجاجی تحریک کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
​تحریک کے پہلے مرحلے میں کوئٹہ پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرائے گئے اور ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں صحافیوں کے علاوہ سول سوسائٹی اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور صحافتی حقوق کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔
مقررین نے بتایا کہ آج صحافتی حقوق کی بحالی کے لیے پورے ملک میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔
پی ایف یو جے کی کال پر کوئٹہ کے صحافی اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے اور وہاں قائم مرکزی احتجاجی کیمپ میں بھی شرکت کریں گے۔
مقررین نے پیکا (PECA) ایکٹ کو “کالا قانون” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی اور کہا کہ جو سیاسی جماعتیں ماضی میں پیکا ایکٹ کے خاتمے کے لیے ہمارے ساتھ کھڑی تھیں، آج وہی ایوانوں میں بیٹھ کر اس کالے قانون کی حمایت کر رہی ہیں۔
پیکا ایکٹ اور جبری برطرفیوں کے ذریعے صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
مقررین نے واضح کیا کہ بلوچستان میں صحافی انتہائی سخت اور مشکل حالات میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 سالوں سے حکمرانوں کی جانب سے جو پابندیاں عائد کی گئی ہیں اب ان کے خلاف عملی جدوجہد کا وقت آ گیا ہے۔
مقررین نے پرامید انداز میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے جو تحریکیں بلوچستان سے شروع ہوئی ہیں وہ ہمیشہ کامیاب ہوئی ہیں۔ ماضی کی طرح اس بار بھی صحافیوں کی مشترکہ جدوجہد کامیابی پر ختم ہو گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں