ٹرمپ کا اسرائیل کو سالانہ 4 ارب ڈالر کی امریکی امداد ختم کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا رواں سال کے اختتام کے بعد اسرائیل کو سالانہ مالی امداد فراہم نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اتفاق ہوچکا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ہر سال اسرائیل کو تقریباً 4 ارب ڈالر کی مالی امداد فراہم کرتا ہے، تاہم چند ماہ قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان اس سلسلے کو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ رواں سال کے اختتام تک اسرائیل کو امریکی مالی ادائیگیاں بند کردی جائیں گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر مستقبل میں اسرائیل کو کسی مشکل یا ہنگامی ضرورت کا سامنا کرنا پڑا تو امریکا اس کی مدد کے لیے موجود ہوگا۔
امریکی صدر کے اس بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور مالی تعاون کے مستقبل پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ تاہم امداد کے خاتمے کے عملی طریقہ کار اور اس کے نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
اسرائیل کو امریکی امداد کا تاریخی پس منظر
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک اسے 130 ارب ڈالر سے زائد کی امداد فراہم کرچکا ہے۔ اس معاونت میں فوجی سازوسامان، دفاعی ٹیکنالوجی، میزائل دفاعی نظام اور دیگر سکیورٹی تعاون شامل ہے۔
امریکا اور اسرائیل کے درمیان 2016 میں 10 سالہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کا اطلاق 2019 سے 2028 تک ہے۔ اس معاہدے کے تحت امریکا نے اسرائیل کو مجموعی طور پر 38 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس میں 33 ارب ڈالر فوجی معاونت اور 5 ارب ڈالر میزائل دفاعی نظام کے لیے مختص ہیں۔ اس طرح سالانہ امداد کی مالیت تقریباً 3.8 ارب ڈالر بنتی ہے۔
نیتن یاہو بھی امریکی امداد ختم کرنے کے خواہشمند
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بھی ماضی میں امریکی مالی امداد پر انحصار کم کرنے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں۔
مئی 2026 میں امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کے پروگرام 60 منٹس کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ اگلے 10 سال کے دوران امریکی مالی امداد کو بتدریج صفر تک لانا چاہتے ہیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ اسرائیل کو امریکی مالی معاونت پر انحصار کم کرکے دونوں ممالک کے تعلقات کو امداد کے بجائے مضبوط شراکت داری کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہیے۔