موسیٰ خیل (بیورو رپورٹ) موسیٰ خیل کی توانا اور بے باک صحافتی آواز، لالا اسرافیل کو رات گئے ان کے آبائی گاؤں ‘زیژہ ایسوٹ’ میں ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
اس سے قبل شہید کی نمازِ جنازہ مقامی ملائشیا گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں صحافیوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور مقامی شہریوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
لالا اسرافیل کی ناگہانی موت پر ہر آنکھ اشکبار اور علاقے کی فضا انتہائی سوگوار رہی۔
دوسری جانب پولیس نے شہید صحافی کے قتل کا مقدمہ ان کے والد کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں تین ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ ایف آئی آر میں قتل، اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات (302، 324، 34) شامل کی گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انصاف کے تقاضے جلد از جلد پورے کیے جائیں گے۔
اگر اس حوالے سے کسی فالو-اپ بیانیے، تعزیتی بیان یا پریس ریلیز کے ڈرافٹ کی ضرورت ہو، تو ضرور بتائیے۔