کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علماء اسلام (ف) نے بلوچستان اسمبلی سے منظور شدہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں جے یو آئی بلوچستان کے امیر مولانا عبدالواسع کی جانب سے سینئر قانون دان کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے ایک آئینی درخواست عدالت میں جمع کرا دی۔
ایکٹ غیر آئینی، ناقابلِ قبول ہے: درخواست گزار کا مؤقف
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور شدہ یہ ایکٹ آئین کے آرٹیکل 18 و 19 اور 172 کی خلاف ورزی ہے اور صوبے کے وسائل پر عوامی اختیار کی نفی
کرتا ہے۔
درخواست گزار نے کہا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز سے متعلق اس قانون کو مکمل صوبائی اتفاق رائے اور مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا، جو قابلِ قبول نہیں۔
قانونی جنگ کا آغاز
کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایکٹ نہ صرف 18ویں آئینی ترمیم کے روح کے خلاف ہے بلکہ صوبے کے قدرتی وسائل پر عوام کے حق خود اختیاری کو بھی متاثر کرتا
ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس قانون کو کالعدم قرار دیا جائے۔
پس منظر
واضح رہے کہ حال ہی میں بلوچستان اسمبلی سے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی منظوری دی گئی تھی، جس پر حزب اختلاف کی جماعتوں، ماہرین اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت تحفظات
کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جمعیت علماء اسلام اس ایکٹ کو عوام دشمن اقدام قرار دے چکی ہے اور دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی اسے چیلنج کرنے کا عندیہ دے چکی ہیں۔
یاد رہے کہ جمعیت کے ارکان اسمبلی نے مخالفت کی بجاے اس ایکٹ کے حق میں راے دیا تھا جس پر پارٹی قائدین نے تشویش کا اظہار کیا تھا