بنوں ( خبردارنیوز ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے امن مارچ کے شرکاء پر براہ راست فائرنگ کی مذمت کرتے ہوے اس سے شرمناک عمل کرار دیدیا
اور کہا کہ نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے فائرنگ کا عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض قوتیں ریاست میں امن کی بجائے شدت پسندی کے ساتھ کھڑے ہیں
انہوں نے کہا کہ دنیا کا کونسا قانون اور مذہب اس طرح کے عمل کی اجازت دیتا ہے؟کیا پختونوں کا امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کا مطالبہ جرم ہے؟
بتایا جائے کیا اپنے تحفظ کیلئے آواز اٹھانا گناہ بن گیا ہے؟
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صد نے نہتے اور پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی بھرپور مذمت کرتے ہوے بنوں امن مارچ کے تمام جائز مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا ہے
اور اس ناروا عمل سے عوام کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کی سازش قرار دیا اور فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سازش میں ملوث تمام ذمہ داران کو انصاف کے
کٹہرے میں لایا جاسکے
اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوچکے ہیں
تاہم کسی گروپ نے آج کے فائرنگ کے واقعہ کی زمہ داری قبول نہیں کی ہے