کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان کے علاقے خاران میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ایک مقامی عدالت کے جج قاضی محمد جان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے دوران نامعلوم مسلح افراد نے جج کے علاوہ کچھ سرکاری عمارتوں کو بھی نذرِ آتش کیا، تاہم اب تک کسی گروپ نے اس واقعے کی
ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی کوئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
بلوچستان کے ضلع خاران کی تحصیل مسکان قلات میں 6 اکتوبر کو مقامی عدالت کے جج قاضی محمد جان کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے دفتر سے اغوا کر لیا۔
یہ بات مسکان قلات کے پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او منظور احمد نے کوئٹہ میں میڈیا کو بتائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اغوا کے وقت نامعلوم افراد ایک وکیل کی
گاڑی بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
ایس ایچ او کے مطابق مسلح افراد نے پہلے جج کے دفتر پر حملہ کیا، پھر دفتر کو آگ لگا دی۔
دوسری جانب حکام نے بتایا کہ واقعے کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف جج محمد جان کے اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
بعدازاں پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا اور اردگرد کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی کسی گروپ نے اس
واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یاد رہے کہ 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز نے خاران کے قریب ضلع خضدار کی تحصیل زہری میں نامعلوم مسلح افراد کے خلاف کارروائی کی
تھی، جس میں 14 افراد کے مارے جانے اور 20 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
واضع رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچ مسلح تنظیمیں، خاص طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور سرکاری عمارتوں کے
خلاف کئی بار کارروائیاں کر چکی ہیں۔
بی ایل اے کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران انہوں نے سرکاری املاک اور اہلکاروں کو نقصان پہنچایا ہے۔