اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز
بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نیشنل ڈیجیٹل پالیسی
کی تشکیل اور اس پر عملدرآمد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے
اور صوبے میں کرپشن کے خاتمے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا
سہارا لیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے اسلام آباد میں
وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) شیزہ فاطمہ
خواجہ نے ملاقات کی ملاقات میں وفاقی سیکرٹری آئی ٹی
اور چیئرمین پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی ڈاکٹر سہیل بھی
شریک تھے۔
ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ بلوچستان حکومت نے محکمہ خزانہ کی ڈیجیٹلائزیشن سے بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کر دیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ محکمہ خزانہ کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن سے کرپشن کے تمام راستے بند ہو جائیں گے اور سرکاری معاملات میں شفافیت آئے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے ایک اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صوبے میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے استعمال سے نوجوانوں کی میرٹ پر تقرری کو یقینی بنایا جا رہا ہے،
جس سے کمیشن کے نام پر ہونے والی کرپشن کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔
سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا کے مثبت اور تعمیری استعمال کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مشترکہ کاوشوں کو ناگزیر قرار دیا۔
اس موقع پر انہوں نے ڈیجیٹل پالیسی پر کام کرنے والی اتھارٹی کو کوئٹہ آنے کی باقاعدہ دعوت بھی دی تاکہ صوبائی سطح پر ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شیزہ فاطمہ خواجہ نے بلوچستان حکومت کے ان اقدامات کو سراہا اور وفاق کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔