بلوچستان ڈیجیٹل میڈیا پالیسی یکسر مسترد

کوئٹہ(پ ر) بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی نے بلوچستان حکومت کی جانب سے مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو نافذ کرنے سے قبل سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے،
بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی کا اجلاس کوئٹہ پریس کلب میں کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ ذوالفقار کی زیر صدارت منعقد ہوا
جس میں بلوچستان ایڈیٹر ز کونسل کے صدر انور ساجدی، بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر فرید اللہ خان، جنرل سیکرٹری شاہ حسین ترین،کوئٹہ پریس کلب کے سینئر نائب صدر محمد افضل مغل اور جنرل سیکرٹری ایوب ترین، ممبران ایڈیٹرز کونسل رضاء الرحمن، خلیل احمد، سید خلیل الرحمن اور محمد انور ناصر شریک ہوئے،
اجلاس میں بلوچستان حکومت کی مجوزہ ڈیجیٹل میڈیاپالیسی کے مختلف پہلوؤں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ شنید میں آیا ہے کہ حکومت ڈیجیٹل میڈیا پالیسی میں اخبارات کے اشتہارت کے کوٹے پر 80 فیصد کٹ لگانا چاہتی ہے
اس پالیسی سے اخباری صنعت کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا اخباری صنعت بلوچستان کی واحد صنعت ہے جس سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اخبارات بند ہونے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا، ا
جلاس میں سرکاری اشتہارات کی غیر منصفانہ تقسیم پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ بلوچستان میں ڈمی اخبارات بہت بڑا مسئلہ ہے، سرکاری اخبارت کے اشتہارات کا ایک بڑا حصہ ان ڈمی اخبارات کی نذر ہوجاتا ہے
جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ محکمہ تعلقات عامہ کے بعض آفیسران ایسے ڈمی اخبارات کی پشت پناہی کرہے ہیں،
اجلاس میں بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو نافذ کرنے سے قبل ا سٹیک ہولڈرز کیساتھ مشاورت یقینی بنائی جائے ساتھ ہی سرکاری اشتہارات کی منصفانہ تقسیم کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ ڈمی اخبارات پر سرکاری وسائل کے ضیاع کا سلسلہ روکا جاسکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھائی جائے گی پہلے مرحلے میں حکومتی نمائندوں، صوبائی وزراء اور بلوچستان اسمبلی میں موجود پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کیساتھ ملاقاتیں کر کے ان کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا
جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کیساتھ ملاقات کرکے ان کے سامنے اپنے مطالبات رکھے جائیں گے اگر اس کے بعد بھی حکومت نے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی پر بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی کو اعتماد میں نہ لیا تو بلوچستان میڈیا ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کر کے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔
اجلاس میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کی جانب سے ایڈیٹرزکونسل کے سامنے صحافیوں اور میڈیا ورکز کے مسائل کا معاملہ اٹھا یا گیا اور ان پر واضح کیا گیا کہ بد قسمتی سے آج چند گنے چنے اخبارات کو چھوڑکر باقی تمام اخبارات سے رپورٹرز، فوٹو گرافرزاور سب ایڈیٹرز کو ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا ہے
جبکہ اکثریتی اخبارات میں رپورٹراور فوٹوگرافر ز ہی نہیں ہیں، ا
جلاس میں ایڈیٹرز کونسل پر یہ واضح کیا گیا کہ وہ اپنے اخبارات میں کل وقتی سٹاف رکھیں اور ان کو منا سب تنخواہیں دینے کے ساتھ ملازمت کیلئے تقرر نامہ دینے کیساتھ اور دیگر لوازمات بھی پورے کریں
جس پر ایڈیٹرز کونسل نے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس اور کوئٹہ پریس کلب کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر اتفاق کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی کہ جلد اس سلسلے میں رپورٹنگ اور ایڈیٹنگ سٹاف کی بھرتیوں کا عمل شروع کیا جائے گا
اور اس سلسلے میں اخبارات کیلئے رائج پالیسی اور لوازمات کو پورا کیا جائے گا جبکہ اخبارات میں پارٹ ٹائم سٹاف رکھنے کی حوصلہ شکنی کی جائے خاص دوہری ملازمت کے حامل سٹاف رکھنے سے گریز کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں