سیاسی جماعتوں اور بیان کی آزادی پر پابندی لگانے سے حالات خراب ہونگے - ساجد ترین

سیاسی جماعتوں اور بیان کی آزادی پر پابندی لگانے سے حالات خراب ہونگے – ساجد ترین

کوئٹہ ( خبردار نیوز ) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سینیر نائب صدر ساجد ترین ایڈوکیٹ نے گذشتہ روز کوئٹہ مستونگ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی

مذمت کرتے ہوے کہا ہے کہ الزام لگایا ہے کہ لوگوں کی آواز دبانے کے لیے فارم 47 والوں کو اسمبلی میں لایاگیا ہے

کوئٹہ میں پارٹی کے دیگر رئنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوے انہوں نے کہا کہ بی این پی کل کی واقعات کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتی ہے

انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں بیان کی آزادی اور طاقت کے ذریعے کسی کوروک نہیں سکتے ہیں

بقول انکے کہ یہاں امن وامان کے قیام پشتون بلوچ قبائل کا بڑا ہاتھ ہے

بی این پی کے نائب صدر نے کہاکہ گوادر میں لوگ آج بھی پانی کے ایک گوند کو ترس رہے ہیں مگر حکومت کی جانب سے یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری ( سی

پیک ) کے ذریعے بڑی ترقی ہوئی ہے جو بلوچستان کے عوام کے ساتھ ایک دھوکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے

ساجد ترین ایڈوکیٹ نے بلوچستان میں ہونے والے واقعات کی مذمت کرتے ہوے کہا کہ حکومت کی جانب سے سڑکوں کی بندش اور دیگر اقدامات سے لوگوں کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ

بندوق اٹھائیں جس کو روکنے کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی نے ہمیشہ سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے

انہوں نے کہا کہ صوبے میں ہونے والے مظالم کے خلاف تمام سیاسی جماعتوں سے بات کرکے اس کے خلاف قومی سطع پر تحریک چلائیںگے

پریس کانفر نس میں انہوں نے سابق ایم پی اے احمد نواز کے گھر پر چھا پے کی مذمت کرتے ہو ے خبردار کیا کہ ایک بھی بلوچ یا پشتون ورکرز کو نقصان پہنچتا ہیں تو بی این پی آواز اٹھائیں

گی ،

لاپت افراد کا زکر کرتے ہوے بی این پی کے قائدین نے کہا کہ بلوچستان کا سب سے پہلا لاپتہ بندہ سردار اختر مینگل کا بھائی اسد مینگل تھا، اور اب بھی وقت ہے کہ حالات کو سنجیدگی سے

لیا جاے آخرمیں ساجدترین ایڈوکیٹ نے بی این پی کے ورکرز کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں بھرپور شرکت کرنے کی ہدایت کی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں