کوئٹہ ( خبردار نیوز ) نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان اسلم بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت نے دو دن سے خود پہیاجام ہڑتال کرکے ایک انوکھا مثال قائم کی ہے
کوئٹہ میں پریس کانفرنس نے خطاب کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ جب سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو آدھے سندھ کو جلایا گیا مگر ایک لاش نہیں گری لیکن بدقسمتی سے
بلوچستان میں سرکاری تشدد کوفروغ دیا جارہا ہے
جبکہ ائین پاکستان ہر ایک کو پر امن احتجاج کا حق دیتا ہے کہ وہ جہاًں چاہے پرامن احتجاج اور جلسہ کرسکتے ہیں
مرکزی ترجمان نیشنل پارٹی کے مطابق وزیراعلی کا بیان آرٹیکل 15 اور16 کی خلافت ورزی ہےاور سوال یہ ہے کہ گوادر کو کس نے نو گو ایریا بنایا ہے
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت سول مارشل لاء نافذ کیاگیا ہے اور اس وقت جو حالات بلوچستان میں ہیں اسکی وجہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہے
جب تک لاپتا افراد کیس پر سیاسی اور عسکری جماعت سنجیدگی نہیں دکھائی گی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا
مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ لاپتا افراد کو بازیاب کروایا جائے اگر وہ کسی طرح گنہگار ہیں تو انہیں سزا دیں ساتھ ہی جو لوگ لاپتا ہے انکی باقاعدہ رپورٹ فراہم کرے
اسلم بلوچ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایف سی سے اختیار لے کر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کا مطالبہ کیا اور کہا کہ لاپتا افراد قائم کمیٹی کی حمایت نہیں کرتے ہیں،