بلوچستان حکومت کا کسانوں کے لیے بڑا ریلیف پیکج

کوئٹہ (نامہ نگار) بلوچستان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فیول کی قیمتوں کے باعث متاثرہ زرعی شعبے کو سہارا دینے کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے “تھریشر فیول

سبسڈی اسکیم” کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

اس اسکیم کے تحت صوبے بھر کے ہزاروں کسانوں کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے مطابق، ابتدائی مرحلے میں 3,102 کسانوں کے ابینک اکاؤنٹس میں سبسڈی کی رقم منتقل کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ 2 سے 3 روز میں مزید

13,128 کاشتکاروں کو بھی ادائیگیاں کر دی جائیں گی۔

اب تک 85,000 سے زائد کسان اس اسکیم کے لیے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔74,000 سے زائد کاشتکاروں کی تصدیق کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔

باقی رہ جانے والے اہل کسانوں کو مرحلہ وار ادائیگیوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ اس اسکیم کا بنیادی مقصد گندم کی تیار فصل رکھنے والے چھوٹے زمینداروں اور کسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر مالی ریلیف دینا ہے۔ تھریشر کے اخراجات میں

کمی سے کاشتکاروں پر پڑنے والا اضافی مالی بوجھ کم ہوگا اور زرعی پیداوار کے تحفظ میں مدد ملے گی۔

“موجودہ مشکل معاشی حالات اور خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر حکومت بلوچستان اپنے کسانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ ہم زرعی پیداوار کے تحفظ اور کاشتکاروں کی خوشحالی کے

لیے مؤثر اقدامات جاری رکھیں گے۔”

زرعی ماہرین نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے صوبے میں فوڈ سیکورٹی کی صورتحال بہتر ہوگی اور کسانوں کی معاشی حالت میں استحکام آئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں