کوئٹہ (نیوز ڈیسک): بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے اور سماج دشمن عناصر کے گھیرا تنگ کرنے کے لیے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کی زیر
صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں انتہائی مطلوب دہشت گردوں اور سنگین جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے ‘ہیڈ منی’ (انعامی رقم) کی پالیسی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی (CTD) اعتزاز گوریہ اور محکمہ داخلہ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اور محکمہ داخلہ کے افسران نے وزیر داخلہ کو صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، مطلوبہ دہشت گردوں کی فہرستوں اور ان کی گرفتاری کے لیے اب تک کی
جانے والی پیش رفت پر مفصل بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے ہیڈ منی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے
کہا کہ انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے انعامی رقم کی پالیسی کو مزید مؤثر بنایا جائے
تاکہ جرائم پیشہ افراد کا خاتمہ یقینی ہو سکے۔ کیونکہ حکومت امن و امان کی بحالی کے لیے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
وزیر داخلہ نے حکام کو سخت ہدایت کی کہ حکومتی فیصلوں پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور سیکیورٹی آپریشنز میں تیزی لائی جائے۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے میر ضیاء اللہ لانگو کا کہنا تھا کہ “عوام کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔ دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے تمام ادارے الرٹ
ہیں اور ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی جاری رہے گی۔