موسمیاتی تبدیلی عالمی خطرہ، خیبرپختونخوا کا جنگلاتی رقبہ 26.5 فیصد تک پہنچ گیا: شفیع جان

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کا سب سے بڑا عالمی چیلنج بن چکی ہے، جس کے

منفی اثرات پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا پر شدت سے مرتب ہو رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ “بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

شفیع جان نے شرکاء کو بتایا کہ شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں نے انفراسٹرکچر اور انسانی جانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے اس تضاد کی نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا عالمی آلودگی میں بہت کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کا سب سے زیادہ شکار ہو رہا ہے۔

صوبائی حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے معاون خصوصی نے بتایا کہ صوبے میں ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام کے ذریعے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لائی گئی ہے۔اس

منصوبے نے 2 لاکھ سے زائد “گرین جابز” (ماحول دوست روزگار) پیدا کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں جنگلات کا رقبہ 19 فیصد سے بڑھ کر 26.5 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

شفیع جان نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے جنگلات پورے پاکستان کی تقریباً 50 فیصد کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا

کہ ماحولیاتی تحفظ کو قومی پالیسی اور ترقیاتی ترجیحات میں مرکزی حیثیت دی جائے۔

این ایف سی فارمولے میں جنگلات کے تحفظ اور صوبے کی ماحولیاتی خدمات کو باقاعدہ شامل کیا جائے تاکہ حقدار صوبے کو اس کا معاوضہ مل سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں