کوئٹہ (بیورو رپورٹ): سینئر سیاستدان اور سابق سینیٹر حاجی لشکری رئیسانی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کوئٹہ دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ موجودہ حکمران عوامی نمائندے نہیں ہیں
بلکہ جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ یہ جعلی حکمران عوامی مفادات کے خلاف فیصلے کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسمبلی میں موجود زیادہ تر اراکین جعلی ہیں جو بلوچستان کے قیمتی وسائل کو فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2018 میں بھی نواب اسلم رئیسانی کی ًمخالفت کے باوجود دیگر اراکین سیندک پروجیکٹ کی خرید و فروخت کا حصہ بنے تھے۔
حاجی لشکری رئیسانی نے اضلاع کی حدود میں ممکنہ تبدیلیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مستونگ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت و شناخت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی قابل قبول نہیں ہے، ان علاقوں کی جغرافیائی شناخت برقرار رہنی چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اس وقت طبیعت کی ناسازی کے باعث شہر سے باہر ہیں،
ان کی واپسی پر علاقوں کو مختلف اضلاع میں شامل کرنے کے حکومتی اقدامات کے خلاف سخت اور جامع لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔