پشاور (اسپیشل رپورٹر): پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں اندرونی اختلافات اور حکومت و پارلیمانی پارٹی کے درمیان بڑھتے ہوئے تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے صوبائی سطح پر ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں 6 رکنی مصلحتی اور مشاورتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے،
جس کا باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی میں صوبے کے اہم ترین سیاسی رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔
کمیٹی کے ارکان میں اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی، علی اصغر خان، مینا خان، اکبر ایوب اور سابق صوبائی وزیر عاطف خان شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، حالیہ دنوں میں صوبائی حکومت کے بعض فیصلوں اور انتظامی امور پر پارلیمانی پارٹی کے اندر شدید تحفظات پائے جا رہے تھے۔
اس صورتحال کو مینیج کرنے کے لیے نوٹیفائیڈ کمیٹی پارلیمانی پارٹی اور صوبائی حکومت کے درمیان بنیادی رابطہ کاری کا کردار ادا کرے گی تاکہ تمام فیصلوں کو باہمی مشاورت سے آگے بڑھایا جا سکے۔
اعلامیے میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ یہ کمیٹی نہ صرف حکومت اور ارکانِ اسمبلی کے درمیان پل کا کام کرے گی،
بلکہ یہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، پارٹی کے صوبائی صدر اور ‘تحریک تحفظِ آئین’ کے لیے ایک کلیدی مشاورتی فورم کے طور پر بھی کام کرے گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی کی تشکیل سے صوبے میں جاری سیاسی کھینچ تان کو کم کرنے اور حکومت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔