اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ صومالیہ میں صومالی قزاقوں کے ہاتھوں گزشتہ کم و بیش 50 روز سے یرغمال پاکستانی شہریوں کی بحفاظت رہائی کے لیے حکومتِ پاکستان تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہر ممکن کوششوں کے باوجود اب تک رہائی ممکن نہیں ہو سکی، کیونکہ یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اور تحمل کا متقاضی ہے۔
ترجمان کے مطابق، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل صومالی وزیر خارجہ سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور نہ صرف پاکستانی بلکہ دیگر ممالک کے یرغمالیوں کی صورتحال بہتر بنانے اور ان کی جلد رہائی پر زور دیا۔
اس سلسلے میں اسلام آباد میں صومالی سفیر کو بھی دفتر خارجہ طلب کر کے ملکی تشویش سے آگاہ کیا گیا ہے جبکہ متعدد بین الوزارتی اجلاس بھی منعقد ہو چکے ہیں۔ پاکستان اس وقت صومالی حکومت، مقامی قبائل اور متعلقہ جہاز کے مالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے حالیہ کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی کو ایک مثبت پیشرفت قرار دیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ رواں ہفتے لبنانی فوج کے کمانڈر انچیف نے پاکستان کا ایک اہم دورہ کیا ہے۔
مزید برآں، گزشتہ رات نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ خاقان فدان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال، امن و سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔