لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ والد اپنے بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہو سکتا۔

**مالی مشکلات یا نجی معاہدہ باپ کو بچوں کے نان و نفقے کی ذمہ داری سے بری نہیں کر سکتا، لاہور ہائیکورٹ**

لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ مالی تنگی یا فریقین کے درمیان کوئی نجی معاہدہ بھی والد کو اپنے نابالغ بچوں کے نان و نفقے کی ذمہ داری سے آزاد نہیں کر سکتا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے اختر حسین اعوان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ نابالغ بچے کے نان و نفقے کا حق مستقل اور جاری نوعیت کا ہے، جسے کسی معاہدے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یہ مقدمہ والد اختر حسین اعوان کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جس میں فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا جن کے تحت ان کے نابالغ بیٹے نصیر اختر اعوان کے حق میں نان و نفقہ مقرر کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2007 میں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت 60 ہزار روپے کی ادائیگی کے بعد آئندہ کسی اضافی خرچے کا مطالبہ نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، لہٰذا بعد میں دائر کیا گیا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں۔

عدالت نے یہ مؤقف مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ماضی کے واجبات پر تو سمجھوتہ ممکن ہے، تاہم نابالغ بچے کے مستقبل کے نان و نفقے کے حق سے دستبرداری قانوناً قابلِ قبول نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے معاہدے جو بچے کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کریں، قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ نابالغ بچے کے نان و نفقے پر “ریس جوڈی کیٹا” کا اصول لاگو نہیں ہوتا کیونکہ یہ ایک مسلسل جاری رہنے والا حق ہے۔ خوراک، لباس، رہائش، تعلیم، علاج اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی والد کی مستقل قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلے میں قرآن و سنت کے حوالوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ والد اپنی کفالت کی ذمہ داری سے کسی نجی معاہدے کے ذریعے دستبردار نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہ فریضہ قانون اور اسلامی تعلیمات دونوں کے تحت اس پر عائد ہوتا ہے۔

عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے ہدایت کی کہ فیصلے کی نقل لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان اور وزارتِ قانون و انصاف کو ارسال کی جائے تاکہ نان و نفقے کے مقدمات میں مدتِ دعویٰ سے متعلق قوانین کا اسلامی اصولوں کی روشنی میں جائزہ لیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں