سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت کی زمہ دار داعش نے قبول کرلی

کوئٹہ ( خبردارنیوز ) مستونگ میں موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین شہید، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری شدید زخمی ہو گئے
۔ کالعدم تنظیم داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ واقعہ کے خلاف بلوچستان بار کونسل نے تین روزہ سوگ اور دو روزہ مکمل عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مستونگ کے علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑی اور جج صاحبان کی سیکیورٹی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور ایک اور شخص شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا اور زخمیوں سمیت لاشوں کو فوری طور پر قریب ترین ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق کالعدم دہشت گرد تنظیم داعش نے اس بزدلانہ حملے کی مسئولیت (ذمہ داری) قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
سیشن جج کی شہادت اور عدلیہ پر حملے کے خلاف بلوچستان بار کونسل کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا ہے۔جس پر بلوچستان بار کونسل نے صوبے بھر میں تین روزہ سوگ اور دو روز تک عدالتی بائیکاٹ کی اپیل کی ہے،
جس کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کی عدالتوں میں وکلا پیش نہیں ہو رہے اور قانونی کارروائیاں معطل ہیں۔
بلوچستان بار کونسل نے حکومت اور اعلیٰ حکام سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ ججز، وکلاء اور عدالتی عملے کی تحفظ کے لیے سیکیورٹی کے انتہائی سخت اور موثر اقدامات کیے جائیں۔
وکلا رہنماؤں نے حکومت سے زور دے کر کہا ہے کہ اس دہشت گردی میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں