اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حکومتِ پاکستان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد پہلے سے مہنگائی کے مارے عوام میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 1 روپیہ 63 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 1 روپیہ 55 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
نئی قیمتوں کا اطلاق فوراً نافذ العمل ہو چکا ہے۔
قیمتوں میں اس نئے اضافے پر مختلف مکاتبِ فکر اور بالخصوص ڈرائیورز و روزمرہ سفر کرنے والے شہریوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اور وقفے وقفے سے ہونے والے اضافے کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو جاتا ہے
بلکہ منڈیوں میں سبزیوں، پھلوں اور دیگر بنیادی اشیائے خوردونوش کے نرخ بھی بے قابو ہو جاتے ہیں۔
عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے
اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بڑھتی ہوئی افراطِ زر اور مہنگائی کو لگام دی جا سکے۔