کوئٹہ، 04 جون (خبردار نیوز) بلوچستان میں تعلیمی ترقی اور شرح خواندگی میں اضافے کے لیے جامع پالیسی اصلاحات کا فیصلہ ،ہبچے اور بچیاں بنیادی تعلیم ایک ہی اسکول میں حاصل کر سکیں گےپرائمری اسکولوں کو جینڈر فری” ڈکلئیر کرنے کا فیصلہ ، مجوزہ پالیسی بلوچستان کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی تجویز ہے
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ایک جلاس آج یہاں کوئٹہ میں منعقد ہوا،جس میں تعلیم، صحت اور امن و امان سے متعلق اصلاحاتی اقدامات کی منظوری دی گئی
اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تینوں شعبوں کی بہتری کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا
اجلاس میں شرح خواندگی میں اضافے کے لیے صوبے کے 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ تدریسی عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا
اس کے علاوہ این سی ایچ ڈی کے اساتذہ کی گزشتہ کئی سالوں سے فکسڈ تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے پر اتفاق ہوا
اجلاس میں بلوچستان کے سرکاری اسکولوں میں منظور شدہ یکساں ریڈنگ اینڈ رائٹنگ مٹیریل متعارف کرایا جائے گا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا
چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی
نے بریفننگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال تک صوبے کے تین ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کمرے تعمیر کیے جائیں گے
اس کے علاوہ بلوچستان کے تمام فعال سرکاری اسکولوں میں ٹاٹ کلچر کے خاتمے اور ہر اسکول کو ڈیسک فراہم کیے جائیں گے،
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سیکرٹری اسکولز ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو صوبے کے تمام سرکاری اسکولوں میں ڈیسک کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بدل چکی ، افسوس کا مقام ہے
بلوچستان میں اب بھی بچہ ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتا ہے،
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد کوئی بچہ ٹاٹ پر نہیں بیٹھے گا، ہر اسکول میں ہر بچہ ڈیسک پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرے گا،
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خبردار کیا کہ وہ دور دراز علاقوں میں صورتحال جاننے کے لئے خود اسکولوں کا جائزہ لوں گا،
ہیلی کاپٹر کسی بھی پہاڑی علاقے یا چٹیل میدان میں اتار کر کسی بھی اسکول کا اچانک معائنہ کروں گا،
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی کہ کوئی بچہ ٹاٹ پر بیٹھا نظر نہیں آنا چاہئے، مقررہ مدت کے بعد ایسا منظر دیکھا تو کارروائی ہوگی ، بچوں میں خود اعتمادی اور عزت نفس کی تکریم کو پروان چڑھانا وقت کی ضرورت ہے،