آبنائے ہرمز میں امریکی فورسز کی کارروائی، 4 ایرانی ڈرون تباہ

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے جنوبی ایران میں مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملے کرنے کا باقاعدہ دعویٰ کر دیا ہے،
جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، یہ حملے کسی جارحیت کے لیے نہیں بلکہ خالصتاً اپنے دفاع (Self-Defense) میں کیے گئے ہیں۔
امریکی فورسز نے کارروائی کے دوران جنوبی ایران میں موجود میزائل لانچنگ سائٹس اور سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے والی ایرانی کشتیوں کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی سینیئر حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری جنگ بندی کے باوجود امریکی فوج اپنے اہلکاروں اور مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ترجمان سینٹرل کمانڈ نے واضح کیا کہ جنگ بندی کے دوران بھی امریکی فوج اپنے اہلکاروں کے دفاع کو ہر صورت یقینی بنائے گی
اور کسی بھی ممکنہ خطرے یا اشتعال انگیزی کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ کے اس تازہ ترین دعوے اور جنوبی ایران میں براہِ راست کارروائی کے بعد خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور جنگ بندی کے معاہدے کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں