تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی حتمی معاہدے کی اطلاعات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں محض قیاس آرائیاں قرار دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ تہران ابھی تک کسی حتمی نتیجے یا فیصلے پر نہیں پہنچا، اور مذاکراتی عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکی حکام کا متضاد اور غیر مستقل رویہ ہے۔
ترجمان وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کو بتایا کہ مذاکراتی متن کا ایک بڑا حصہ تقریباً تیار ہو چکا تھا،
تاہم امریکی حکام کی جانب سے بار بار نئی شرائط سامنے لانے اور مؤقف تبدیل کرنے کے باعث کوئی حتمی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔
ایرانی دفترِ خارجہ کی جانب سے سامنے آنے والے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1۔ امریکی حکام کا متضاد رویہ اور فوجی کارروائیاں
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کے بدلتے ہوئے اور متضاد مؤقف کوئی نئی بات نہیں، گزشتہ کئی ماہ کے دوران مختلف امریکی عہدیداروں کی جانب سے بارہا ایسے بیانات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا:
“امریکہ ایک طرف مذاکرات اور سفارت کاری کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف طاقت کے استعمال اور غیر قانونی اقدامات کا سہارا لیتا ہے۔
مذاکراتی عمل کے دوران ہی امریکہ نے دو مرتبہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کیں اور متعدد جارحانہ اقدامات انجام دیے۔”
2۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
ترجمان نے مزید کہا کہ خطے میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود امریکہ اور اسرائیل نے کئی بار اس کی کھلی خلاف ورزی کی، جو ان کی سفارتی عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔
3۔ ایران کا ذمہ دارانہ مؤقف
اسماعیل بقائی نے ایران کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تہران نے ہمیشہ حسنِ نیت اور ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ سفارتی عمل میں شرکت کی ہے، لیکن مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے دوسری طرف سے بھی سنجیدگی اور مستقل مزاجی کا ہونا لازمی ہے۔
موجودہ صورتحال: ایرانی وزارتِ خارجہ کے اس دوٹوک بیان کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری خفیہ یا اعلانیہ سفارتی کوششوں کے مستقبل پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، اور خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کے امکانات مزید دھندلا گئے ہیں۔