مستونگ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فائرنگ سے شہید، سرکاری محافظ جاں بحق، ایڈیشنل سیشن جج زخمی
مستونگ: بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سرکاری محافظ محمد زمان جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق واقعہ جمعرات کی صبح کوئٹہ، کراچی قومی شاہراہ پر مستونگ کے علاقے سنگر میں ولی خان ریلوے پھاٹک کے قریب پیش آیا، جہاں کوئٹہ سے مستونگ جانے والی سرکاری گاڑی کو نامعلوم حملہ آوروں نے نشانہ بنایا۔
ایس پی مستونگ اللہ بخش کے مطابق حملہ آور کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ جاں بحق افراد اور زخمی جج کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ پولیس، ایف سی، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تاحال کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مستونگ اور اس کے گرد و نواح میں سکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔ گزشتہ روز بھی کھڈکوچہ کے علاقے میں مسافر بس پر فائرنگ سے تین افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ اسی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ججز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانا ریاست پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں گی۔