بین الاقوامی میڈیا پر نئی پابندیاں، بی بی سی کا پاکستانی حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
بی بی سی نے پاکستان میں بین الاقوامی میڈیا کی نقل و حرکت اور رپورٹنگ پر عائد نئی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام سے انہیں فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
نئی ہدایات کے تحت غیر ملکی میڈیا کے لیے کام کرنے والے تمام افراد، بشمول پاکستانی شہری، اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں سے رپورٹنگ کے لیے پیشگی اجازت لینے کے پابند ہوں گے۔
بی بی سی کے ترجمان کے مطابق ادارہ پاکستان میں ہر ہفتے تقریباً 86 لاکھ افراد تک آزاد اور غیر جانب دار خبریں پہنچاتا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ بی بی سی کے صحافیوں اور مقامی عملے کو ملک کے تمام علاقوں میں آزادانہ سفر اور رپورٹنگ کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ واقعات کی بروقت کوریج اور عوام کی آواز دنیا تک پہنچائی جا سکے۔
بی بی سی نے کہا کہ آزادیٔ صحافت کو دنیا بھر میں پہلے ہی دباؤ کا سامنا ہے اور پاکستان میں عائد کی جانے والی نئی پابندیاں میڈیا کی آزادی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔
نئی پابندیوں کے باعث ملک کے بیشتر علاقوں میں بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹنگ حکام سے پیشگی اجازت سے مشروط ہو جائے گی۔
صحافیوں اور مبصرین کی جانب سے بھی ان پابندیوں پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سیاستدان مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اسے بین الاقوامی میڈیا کے لیے مزید محدود ہوتی ہوئی صحافتی فضا قرار دیا ہے۔
پاکستان میں میڈیا پر پابندیوں اور دباؤ کا معاملہ نیا نہیں، تاہم ناقدین کے مطابق مقامی میڈیا کو بھی طویل عرصے سے مختلف نوعیت کے دباؤ کا سامنا رہا ہے