میر رضا علی کیس: جبران ناصر کا تفتیشی ٹیم تبدیل کرکے شفاف تحقیقات کا مطالبہ، والدین بھی پولیس موقف پر برہم

میر رضا علی کیس: جبران ناصر کا تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ، والدین نے بھی پولیس تحقیقات پر تحفظات ظاہر کردیے

کراچی: میر رضا علی کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر نے پولیس کی تفتیش پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مقتول کے والدین نے بھی واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ پولیس تفتیش کے نام پر میر رضا علی کے خاندان کے نجی، ازدواجی اور مالی معاملات سے متعلق خبریں سامنے لائی جارہی ہیں، جو قابل تشویش ہے۔ انہوں نے آئی جی سندھ سے اس معاملے پر وضاحت کا مطالبہ بھی کیا۔

جبران ناصر کے مطابق اہلخانہ کو مبینہ طور پر دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی اور انہیں گھنٹوں دفتر میں بٹھا کر واقعے کو خودکشی تسلیم کرنے پر زور دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان پہلے روز سے میر رضا علی کی موت کو قتل قرار دے رہا ہے، تاہم پولیس افسران خودکشی کے مؤقف پر اصرار کرتے رہے۔

وکیل نے بتایا کہ میڈیکل بورڈ کے سامنے 14 سوالات رکھے گئے، جبکہ مختلف نمونے بھی حاصل کیے گئے۔ ان کے مطابق جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات بھی سامنے آئے ہیں اور مجموعی طور پر 17 نمونے لیے گئے۔

جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ میڈیکل شواہد کے مطابق گولی کمر سے داخل ہوکر سینے سے باہر نکلی، جبکہ پسلیوں اور پاؤں کے انگوٹھے پر بھی انجری کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے جسم پر پائے جانے والے مبینہ کالے دھبوں اور دیگر شواہد کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ خاندان کا مؤقف ہے کہ یہ ایک بے گناہ نوجوان کا قتل ہے اور پولیس کو تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنی چاہئیں۔ جبران ناصر نے مطالبہ کیا کہ موجودہ تفتیشی ٹیم کو تبدیل کرکے اچھی شہرت رکھنے والے افسران پر مشتمل نئی ٹیم تشکیل دی جائے۔

والد کا مؤقف

میر رضا علی کے والد نے کہا کہ اہلخانہ 30 تاریخ سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا، تاہم پولیس نے ان کے مؤقف کو تسلیم کرنے کے بجائے خودکشی کے امکان پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ خاندان کا مطالبہ ہے کہ میر رضا علی کی موت کے ذمہ دار افراد کو سامنے لایا جائے اور کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان اپنے وکیل جبران ناصر کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔

والدہ کا بیان

میر رضا علی کی والدہ نے کہا کہ پوسٹ مارٹم سے قبل ہی جسم کی حالت دیکھ کر اہلخانہ نے قتل کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ ان کے مطابق سامنے آنے والے طبی شواہد نے ان کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔

اہلخانہ اور وکیل نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی ازسرنو اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، موجودہ تفتیشی ٹیم تبدیل کی جائے اور میر رضا علی کی موت کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں