کوئٹہ، 24 اگست 2026: منگی ڈیم، ضلع زیارت میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن آف انکوائری جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں سماعت کی۔
سماعت کے دوران محمد فرید ڈوگر، ایڈیشنل اٹارنی جنرل؛ انور نسیم کاسی، ڈپٹی اٹارنی جنرل-I؛ حبیب اللہ گل، ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل؛ عبدالمتین، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سمیت دیگر متعلقہ حکام اور وکلاء بھی موجود تھے۔
اس کے علاوہ اے آئی جی (لیگل) شفیق الرحمان، دفتر انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان، اور کمیشن کے رجسٹرار/ بھی کارروائی میں شریک ہوئے۔
کمیشن کے 18 اگست 2026 کے حکم کی تعمیل میں ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان عبداللطیف کاکڑ، اے آئی جی (لیگل) شفیق الرحمان کے ہمراہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے
اور انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کی جانب سے جامع رپورٹ پیش کی۔
کمیشن نے جامع رپورٹ کا کھلی عدالت میں جائزہ لیا، اور رپورٹ کو ٹی او ار کے تقاضوں اور سوالات کے مطابق نہ ہونے اور ہدایت کے مطابق تمام متعلقہ ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر اسے غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔
مزید اگلی سماعت کے دن ائی جی پولیس بلوچستان کو محکمہ پولیس اور اس کے زیلی محکمہ جات کی جانب سے نئی جامع رپورٹ بمع تمام متعلقہ ریکارڈ ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
اس بابت ایڈوکیٹ جنرل کو ائی جی پولیس کو اگلی سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے سے متعلق اگاہ کرنے کا حکم بھی دیا۔
سماعت کے دوران زیارت، ہرنائی، لورالائی اور ملحقہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد وکلاء نے کمیشن کے روبرو پیش ہو کر منگی ڈیم واقعے کے حقائق سامنے لانے کے لیے رضاکارانہ طور پر قانونی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی۔
کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے وکلاء میں شمس الرحمن کاکڑ، عبدالمصور، صادق خان، برخوردار خان اچکزئی اور حبیب اللہ خان ناصر ایڈووکیٹس بھی شامل تھے۔
وکلا نے قانونی معاونت فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ تحقیقات کو نتیجہ خیز انجام تک پہنچایا جا سکے اور واقعے کے تمام حقائق مکمل طور پر سامنے لائے جا سکیں۔
سماعت کے موقع پر شہید اہلکاروں میں سے ایک کے بھائی نسیم اللہ بھی متعدد دیگر شہداء کے ورثاء کے ہمراہ ذاتی طور پر کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے متعدد قانونی ورثاء اور دیگر متعلقہ افراد اپنے بیانات ریکارڈ کرانے اور دستیاب شواہد کمیشن کے سامنے پیش کرنے کے خواہشمند ہیں۔
نسیم اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بیشتر لواحقین کا تعلق دور دراز علاقوں سے ہے،
جس کے باعث وہ مقررہ مدت کے اندر کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کے سامنے پیش ہو کر اپنے نام درج کرانے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے رجسٹریشن اور ناموں کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اگست 2026 میں مزید توسیع کی درخواست کی اور یقین دہانی کرائی کہ لواحقین مقررہ توسیع شدہ مدت کے دوران کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری کے دفتر میں اپنے نام درج کرائیں گے۔
کمیشن نے لواحقین کی درخواست، دور دراز علاقوں سے ان کے تعلق اور سفری مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے رجسٹریشن اور ناموں کے اندراج کی آخری تاریخ 28 اگست سے بڑھا کر 3 ستمبر 2026 تک کرنے کا حکم دے دیا۔
اس طرح لواحقین اور ممکنہ گواہوں کو اپنے نام درج کرانے اور کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے لیے مزید وقت فراہم کر دیا گیا۔
دورانِ سماعت کمیشن کے رجسٹرار/سیکرٹری نے بتایا کہ کمیشن کے 18 اگست 2026 کے حکم کی تعمیل میں 17 اگست 2026 کو جاری کیا گیا
عوامی نوٹس 19 اگست کو معروف اردو اور انگریزی اخبارات کے صفحہ اول پر دوبارہ شائع کیا گیا۔
نوٹس شائع کرنے والے اخبارات میں روزنامہ جنگ کوئٹہ، روزنامہ مشرق کوئٹہ، باخبر کوئٹہ، بلوچستان ٹائمز کوئٹہ اور سینچری ایکسپریس کوئٹہ شامل ہیں۔
کمیشن کو بتایا گیا کہ ڈی جی پی آر کے ذریعے عوامی آگاہی کے لیے میڈیا مہم بھی چلائی گئی،
جبکہ عوام کو کمیشن کی کارروائی اور رجسٹریشن کے عمل سے آگاہ کرنے کے لیے وال پوسٹرز اور دیگر تشہیری مواد بھی جاری کیا گیا۔
متعلقہ اخبارات میں شائع ہونے والے نوٹس اور دیگر مواد کی نقول بھی کمیشن کے ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی ہیں۔
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے متعلقہ حکام سے ضروری ہدایات حاصل کرنے کے لیے مزید وقت طلب کیا، جس پر کمیشن نے انہیں ایک اور موقع فراہم کر دیا۔
کمیشن آف انکوائری بلوچستان نے مزید کارروائی 27 اگست 2026 بروز جمعرات، دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دی۔