زیارت (خبردار نیوز)وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دورہ زیارت کے موقع پر آل پارٹیز زیارت کی اپیل پر شہر بھر میں ‘یومِ سیاہ’ منایا گیا اور مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
ہڑتال کے باعث زیارت شہر اور اطراف کے تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز، بازار اور کاروبار مکمل طور پر بند رہے، جبکہ شہر کی فضا سوگوار اور سنسان دکھائی دی۔ احتجاج کے دوران شہریوں اور سیاسی و سماجی کارکنوں کی بڑی تعداد زیارت کی مرکزی شاہراہ (مین روڈ) کی دونوں اطراف سیاہ جھنڈے اٹھا کر کھڑی رہی اور حکومت کے خلاف خاموش احتجاج درج کرایا۔
مرکزی شاہراہ پر مظاہرین کی بڑی تعداد میں موجودگی اور ممکنہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے سیکیورٹی روٹ تبدیل کر دیا۔
انتظامیہ وزیر اعلیٰ بلوچستان کے موٹر کیڈ کو مرکزی روڈ کے بجائے متبادل بائی پاس راستے سے قائد اعظم ریزیڈینسی لے کر گئی۔
آل پارٹیز زیارت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی یہ کال کوئٹہ میں شہدائے پولیس کے لواحقین کے ساتھ کیے گئے حکومتی وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں حکومتی سطح پر شہدائے پولیس کے اہلخانہ کو مطالبات کی منظوری اور مسائل کے حل کی کامل یقین دہانی کرائی گئی تھی، جس پر لواحقین نے اپنا دھarna اور احتجاج ختم کیا تھا،
لیکن طویل وقت گزرنے کے باوجود ان مطالبات پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ آل پارٹیز زیارت کے مطابق جب تک شہداء کے لواحقین کے جائز مطالبات پورے نہیں ہوتے، احتجاج کا سلسلہ مختلف صورتوں میں جاری رہے گا۔