بلوچستان کے غیر فعال ائیرپورٹس کی بحالی کے لیے قرارداد منظور، مسافروں کو درپیش مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار

کوئٹہ(خبردار نیوز) بلوچستان اسمبلی کےآج کے اجلاس میں بی این پی عوامی کے پارلیمانی رہنما میر اسد اللہ بلوچ کی جانب سے صوبے کے اندرون اضلاع کے غیر فعال ائیرپورٹس کی فوری بحالی کے حوالے سے ایک اہم غیر سرکاری قرارداد پیش کی گئی۔
ایوان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور سڑکوں پر سفر کے دوران عوام کو پیش آنے والی مشکلات پر تفصیلی بحث کی گئی۔
قرارداد کا پس منظر اور ائیرپورٹس کی بحالی کا مطالبہ
میر اسد اللہ بلوچ نے ایوان کو بتایا کہ بلوچستان میں موجودہ امن و امان کی غیر یقینی اور مخدوش صورتحال کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور اندرونِ اضلاع سمیت ملک کے دیگر حصوں سے آمدورفت کے دوران مسافروں کو مختلف نوعیت کے سنگین خطرات اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ صوبے کے اہم اضلاع پنجگور، خضدار، دالبندین اور ژوب میں ائیرپورٹس موجود ہیں جو طویل عرصے سے مکمل طور پر غیر فعال ہیں۔ یہ ائیرپورٹس ان علاقوں کے عوام کو کوئٹہ اور ملک کے دیگر بڑے شہروں سے جوڑنے کا سب سے موثر اور محفوظ ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اہم مطالبات:
فضائی رابطے کی بحالی: پنجگور، خضدار، دالبندین اور ژوب کے ائیرپورٹس کو فوری طور پر فعال بنایا جائے۔
پروازوں کا آغاز:
وفاقی حکومت، وزارتِ ہوا بازی اور قومی و نجی فضائی کمپنیاں ان ائیرپورٹس سے کوئٹہ، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے لیے باقاعدہ پروازوں کے آغاز اور تسلسل کو یقینی بنائیں۔
عوامی سہولت اور ترقی: ائیرپورٹس کی فعالیت سے نہ صرف عوام کو سفری مشکلات سے نجات ملے گی بلکہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں کا فروغ بھی ممکن ہو گا۔
میر اسد اللہ بلوچ نے زور دیا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کے عوام کی آواز سنے اور زمینی راستوں پر سفر کے خطرات کے پیشِ نظر عملی و نتیجہ خیز اقدامات اٹھائے تاکہ صوبے کے عوام کو ملک کے دیگر حصوں تک محفوظ اور سہل فضائی سفر کی سہولت میسر آ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں