آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی کا اسلام آباد ہائیکورٹ کے اقدام پر اظہار نا راضگی

کوئٹہ ( بیورو رپورٹ ) آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے منتخب وزرائے اعلیٰ کو طلب کرنے اور ان سے بیان حلفی لینے کے اقدام کو آئینی دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
کوئٹہ سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اداروں کی جانب سے ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت ہی ملک میں جاری سیاسی، آئینی، معاشی اور معاشرتی بحران کی اصل جڑ ہے۔
اعلامیے کے اہم نکات
27 ستمبر کے سیاسی جماعت کے لانگ مارچ کے تناظر میں صوبائی انتظامی سربراہان اور وزرائے اعلیٰ کو طلب کرنا چیف جسٹس کے اپنے منصب اور حلف کی صریح خلاف ورزی ہے۔
عدلیہ کا آزادانہ و منصفانہ فیصلے دینا اور پارلیمنٹ کا مکمل طور پر آزاد ہونا ہے۔
دنیا بھر میں لاکھوں افراد احتجاج اور لانگ مارچ کرتے ہیں، عدالتوں کا اس نوعیت کے امور میں مداخلت کرنا اور احتجاج کرنے والوں کو روکنا مناسب نہیں۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ ماضی میں ‘ڈوگر کورٹ’ کے غیر آئینی فیصلوں کی طرح کسی بھی غیر آئینی اقدام کو آج بھی وکلاء اور عوام بھرپور طریقے سے مسترد کریں گے۔
آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی، آئین کی پاسداری اور ایک حقیقی آزاد عدلیہ کے قیام کے لیے ان کی جدوجہد اور آواز بلند کرنا جاری رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں