کوئٹہ: تاریخی گوردوارے کی اراضی کی فروخت کے خلاف بلوچستان اسمبلی میں قرارداد پیش، اسپیکر کی بحث سے روکنے کی رولنگ

کوئٹہ(خبردار نیوز) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں آرچر روڈ پر واقع قیامِ پاکستان سے قبل کے تاریخی گوردوارے کی اراضی کی فروخت اور وہاں پلازہ کی تعمیر کے خلاف ایک مشترکہ قرارداد پیش کی گئی ہے۔
​پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور سنجے کمار کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد کے متن میں موقف اختیار کیا گیا کہ آرچر روڈ پر قائم گوردوارہ قیامِ پاکستان سے قبل سکھ برادری کی عبادت گاہ تھی۔
بعد ازاں اس عمارت کو ایک اسکول کے لیے مختص کر دیا گیا تھا،
تاہم حال ہی میں اس تاریخی اراضی کو فروخت کر کے وہاں ایک کمرشل پلازہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔
​ایوان میں معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو نے بتایا کہ مذکورہ اراضی محکمہ اوقاف کے زیرِ انتظام تھی،
جسے کیتھولک بورڈ کی رضامندی کے ساتھ مکمل شفاف طریقے سے نیلام کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران رکنِ اسمبلی اصغر ترین نے لیز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ محکمہ اوقاف کی جانب سے یہ زمین 61 ہزار روپے فی اسکوائر فٹ کے حساب سے لیز پر دی گئی ہے۔
​موضوع پر گرم جوش بحث کے دوران اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے رولنگ دیتے ہوئے کارروائی روک دی۔ اسپیکر کا کہنا تھا کہ چونکہ گوردوارہ اراضی کی فروخت کا معاملہ اس وقت عدالت میں زیرِ سماعت ہے،
اس لیے قواعد و ضوابط کے تحت ایوان میں اس پر مزید بحث نہیں ہو سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں