کوئٹہ: وفاقی وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان ریلوے کی تاریخ میں گزشتہ 78 برسوں کے دوران صوبائی حکومتوں کے ساتھ جس طرح کے روابط ہونے چاہیے تھے، وہ نہیں رہے، لیکن اب ریلوے کو کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ تمام صوبوں کا مشترکہ ادارہ بنایا جا رہا ہے۔
وہ کوئٹہ میں “جناح پیپلز ٹرین سروس” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں بلوچستان نے دیگر صوبوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور بازی لے گیا ہے۔ بلوچستان کی یہ جیت دراصل اس نظریے کی جیت ہے جو اسے “پاکستان کے ماتھے کا جھومر” تسلیم کرتا ہے۔
وفاقی وزیر نے سخت گیر عناصر کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ “جو یہ کہتا ہے کہ ہم پاکستان کو نہیں مانتے، ہم اسے کہتے ہیں کہ ہم تمہیں نہیں مانتے۔” انہوں نے مزید زور دیا کہ جتنا خوبصورت اور تاریخی بلوچستان کا ریلوے کا نظام ہے، اتنا کسی دوسرے صوبے کا نہیں ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ کے اہم ترقیاتی منصوبوں کا اعلان بھی کیااور کہا کہ آئندہ 120 روز کے اندر اسی طرز کی ایک اور نئی ٹرین بھی چلائی جائے گی۔
انکے مطابق ایم ایل ون (ML-1) منصوبہ دو ارب ڈالر کے مالیت کا ہے اس بڑے منصوبے کا آغاز آئندہ جنوری میں کیا جائے گا۔
حنیف عباسی نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت بلوچستان کو پاکستان سے الگ نہیں کر سکتی اور نہ ہی کوئی ایسی قوت موجود ہے جو پاکستان کو شکست دے سکے۔