کوئٹہ (خبردار نیوز) جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) بلوچستان کے امیر اور سینیٹر مولانا عبدالواسع کی صوبائی مجلس عاملہ کے ہمراہ کوئٹہ میں کی جانے والی اس اہم پریس کانفرنس کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
مولانا عبدالواسع نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ذمہ داران کی طرف سے قائدِ جمعیت (مولانا فضل الرحمان) کی مبینہ کردار کشی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واضح کیا کہ جے یو آئی اپنے قائد اور مدارس کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، اس قسم کے بیانات سے قائد کا قد کم نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت اور فارم 47 پر مؤقف: جے یو آئی کے رہنما نے تمام صوبوں میں “فارم 47” کی پیداوار حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فوری طور پر ملک میں نئے عام انتخابات کا مطالبہ کیا تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ اور حالات درست ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ محسن نقوی خود اس فارمولے کے خلاف ہیں۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی تردید: کے پی کے بعض حصوں میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کے فیصلوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ اگر بلوچستان میں بھی گورنر راج لگایا گیا تو وہ ایک غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہوگا۔
پی ٹی آئی سے متعلق پالیسی: جے یو آئی ماضی میں (2018 سے) پی ٹی آئی کی مخالف رہی ہے،
تاہم موجودہ حکومتی اقدامات کے تناظر میں مولانا نے یہ واضح کیا کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے معاملے میں وہ پی ٹی آئی کے مؤقف کے ساتھ ہیں۔
بارڈر بندش اور معاشی مشکلات:
پاک-افغان اور پاک-ایران بارڈر کی بندش پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ عوام کے ساتھ مذاق بند کیا جائے، بارڈرز کھولے جائیں اور عوام کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں کیونکہ دہشت گردی کی آڑ میں تجارت اور روزگار کا بند کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
معدنیات اور وسائل کا تحفظ:
ریکوڈک سمیت ملک اور بالخصوص بلوچستان کے معدنی وسائل کو سستے داموں فروخت کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، اور مائنز اینڈ منرلز و مدارس کے ایکٹس کو اسمبلی میں لایا جائے۔
سیاسی لائحہ عمل اور عوامی رابطہ مہم:
مولانا عبدالواسع نے اعلان کیا کہ پارٹی 17 سے 25 نومبر تک بلوچستان کے تمام اضلاع کا دورہ کرکے عوام کو بیدار کرے گی، کارکنوں کو منظم کیا جائے گا،
اور اگر ضرورت پڑی تو تمام اسمبلیوں سے استعفے دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔